Book Name:Fatawa Razawiyya jild 29

مادفع الاوھام المتطرقۃ الیہ فی رسالتنا "الھادا الکاف فی حکم الضعاف " فاذا لم تکن لتثبت مالم یثبت فکیف ترفع ماقدثبت ماھذا الاغلط وشطط وھذا واضح جدا فاتضح بحمد اﷲ ان الروایۃ ضعیفۃ واھیۃ وانہا فی اثبات ماریم منھا غیر مغنیۃ ولا کافیۃ ھکذا ینبغی التحقیق واﷲ تعالٰی ولی التوفیق۔

"الھاد الکاف فی حکم الضعاف"میں اس کی تحقیق کردی ہے جس پر زیادتی نہیں کی جاسکتی جس نے اس مسئلہ میں پیدا ہونے والے تمام وہموں کا ازالہ کردیا ہے،چنانچہ جب وہ ضعیف حدیثیں غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرسکتی ہیں تو ثابت شدہ چیز کو رفع کیسے کرسکیں گی۔یہ محض غلط اور حق سے دُوری ہے،یہ خوب واضح ہے۔بحمداﷲ واضح ہوگیا کہ روایت مذکورہ ضعیف اور بے ہودہ ہے اور اس سے جس مقصد کو ثابت کرنا مطلوب تھااسکے لیے یہ مفید و کافی نہیں ہے۔یونہی تحقیق چاہیے اور اﷲ تعالٰی توفیق کا مالك ہے۔(ت)

ثانیًا:اگر بالفرض صحیح بھی ہوتی تو ان احادیث جلیلہ جزیلہ صحاح اصح کے مخالف تھی لہذا مردود ہوتی نہ کہ خود صحیح بھی نہیں اب اُن کے مقابل کیا التفات کے قابل اقول جواب اول بنظر سند تھا یہ بلحاظ متن ہے یعنی اگر سندًا صحیح بھی ہوتی تو متنًا شاذ تھی اور ایسا شذوذ قاوح صحت یوں بھی ضعیف رہتی اب کہ سندًا بھی صحیح نہیں خاص منکر ہے اور بہرحال مردود و نامعتبر،یہ جواب بھی علمائے ممدوحین نے دیا اور امام قسطلانی و شیخ محقق نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا۔خمیس میں بعد عبارت مذکورہ امام بیہقی سے ہے:

والصحیح من الحدیث قد اثبت لابی طالب ابوفاۃ علی الکفر والشرك کما رویناہ فی صحیح البخاری[1]۔

یعنی حدیث صحیح ابو طالب کا کفر وشرك پر مرنا ثابت کررہی ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں موجود۔

بعنیہ اسی طرح مواہب میں ہے۔عمدہ میں بعد عبارت مذکورہ اور زرقانی میں امام حافظ الشان سے ہے:

ولوکان صحیحا العارضہ حدیث

اگر یہ صحیح بھی ہوتی تو اس باب میں وارد حدیث

 


 

 



[1] تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس وصیت ابی طالب مؤسسۃ شعبان للنشربیروت ۱ /۳۰۰



Total Pages: 750

Go To