Book Name:Fatawa Razawiyya jild 29

(المنع)لجواز روایتہ تعویلا علی المجتھدانہ لایعمل الا بعد التعدیل(و)الثالث(التفصیل بین من علم) من عادتہ(انہ لایروی الاعن عدل)فیکون تعدیلا (اولا)فلا(وھو)ای الثالث(الاعدل)وھو ظاھر [1]اھ باختصار۔

ثالثھا:لیس الحکم علی کافر معلوم الکفرلاسیما المدرك صحۃ لغویۃ بطریان الاسلام من باب الفضائل المقبول فیہ الضعاف باتفاق الاعلام، کیف وانہ یبتنی علیہ کثیر من الاحکام کتحریم ذکرہ الا بخیر و وجوب تعظیمہ بطلب الترضی علیہ اذا ذکر بعد ماکان ذاك حراما بل ربما المنجرالی الکفر، و العیاذ باﷲ تعالٰی،وقبول قولہ فی الروایات ان وقعت الی غیر ذلك والیقین لایزول الشك والضعیف لا یرفع الثابت وانما السرفی قبول الضعاف حیث تقبل انہا ثمہ لم تثبت شیئا لم یثبت کما حققناہ بما لا مزید علیہ

منع تعدیل ہے کیونکہ ہوسکتا ہے اس نے متجہد پر بھروسا کرتے ہوئے یہ روایت کرتی ہو کیونکہ مجتہدتعدیل کے بعد ہی عمل کرتا ہے،اور تیسرا مذہب تفصیل یعنی اگر اس کی یہ عادت معلوم ہے کہ وہ فقط عادل سے روایت کرتا ہے غیر عادل سے نہیں،تو تعدیل ہوگی ورنہ نہیں،اور یہ تیسرا مذہب زیادہ عدل والا ہے اور وہ ظاہر ہے اھ اختصار۔

تیسرا امر:جس کافر کا کفر معلوم ہو خصوصًا جب کہ وہ صحت لغویہ کو پانے والا ہو۔اُس پر اسلام کے طاری ہونے کا حکم از قبیل فضائل نہیں ہے جس میں باتفاق علماء ضعیف حدیثیں بھی مقبول ہیں،ایسا کیونکر ہوسکتا ہے جب کہ اس پر بہت سے احکام کی بنیاد ہے مثلًا بھلائی کے سوا اس کے ذکر کا حرام ہونا، اس کی تعظیم کا واجب ہونا اور اس کے ذکرکے ساتھ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کہنا،بعد اسکے یہ حرام بلکہ بسا اوقات کفر تك پہنچا دینے والی چیز ہے،اور اﷲ تعالٰی کی پناہ،اور روایات میں اس کے قول کو قبول کرناجب کہ واقع ہوں وغیرہ ذلك، حالانکہ یقین شك کے ساتھ زائل نہیں ہوتا،اور ضعیف حدیث ثابت کو رفع نہیں کرسکتی،ضعیف حدیثیں جہاں قبول کی جاتی ہیں وہاں ان کو قبول کرنے میں راز یہ ہے کہ وہاں ضعیف حدیثیں کسی غیر ثابت چیز کو ثابت نہیں کرتیں جیسا کہ ہم اپنے رسالہ  

 


 

 



[1] فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذل المستصفٰی مسئلہ مجہول الحال الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۱۵۰



Total Pages: 750

Go To