Book Name:Fatawa Razawiyya jild 29

فی)المذھب(الصحیح)ولیس ھذا کالارسال کما نقل عن شمس الائمۃ لان ھذا روایۃ عن مجہول والا رسال جزم بنسبۃ المتن الٰی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وھذا لایکون الا بالتوثیق فافترقا (بخلاف)قال ثقہ اورجل من الصحابۃ لان ھذا روایۃ عن ثقۃ لان الصحابۃ کلھم عدول(ولواصطلح علی معین)معلوم العدالۃ علی التعیین برجل(فلا اشکال)فی القبول [1]اھ۔اقول:ویتراأی لی استثناء من ابھم وقدعلم من عادتہ انہ لایروی الا عن ثقۃ کامامنا الاعظم والا مام احمد وغیرھما ممن سمیناھم فی "منیرالعین " فان المبھم امام من مجھول الحال او کمثلہ وقدصرحوا فیہ بھذا التفصیل قال فی الکتابین(فی روایۃ العدل)عن المجہول(مذاھب) احدھا(التعدیل)فان شان العدل لایروی الاعن عدل (و)الثانی

ایك مرد نے،تو مذہب صحیح میں قبول نہیں کی جائے گی۔یہ ارسال کی مثل نہیں جیسا کہ شمس الائمہ سے منقول ہے، کیونکہ یہ مجہول سے روایت ہے جبکہ ارسال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف متن کی نسبت کا جزم ہے اور یہ بغیر توثیق کے نہیں ہوسکتا،تو اس طرح دونوں میں فرق ہو گیا۔بخلاف اس کے کہ اگر کسی نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی ایك ثقہ نے یا صحابہ کرام میں سے ایك مرد نے کیونکہ یہ ثقہ سے روایت ہے،اس لیے کہ تمام صحابہ عادل ہیں۔اگر یہ اصطلاح بنالی جائے کہ فلاں معین شخص جس کی عدالت معلوم ہے کہ " ایك مرد" کے ساتھ تعبیر کیا جائے گا تو اس کے مقبول ہونے میں کوئی اشکال نہیں۔اھ  اقول:(میں کہتا ہوں)میرے لیے اُس شخص کا استثناء ظاہر ہوا جس نے ابہام کیا حالانکہ اس کی عادت معروف ہے کہ بغیر ثقہ کے کسی سے روایت نہیں کرتا جیسا کہ ہمارے امام اعظم اور امام احمد اور دیگرائمہ کرام جن کے نام ہم نے "منیر العین" میں ذکر کیے ہیں۔اس لیے کہ مبہم مجہول الحال سے ہوگا یا اس کی مثل سے تحقیق اس میں علماء نے اس تفصیل کے سات تصریح فرمائی ہے،دونوں کتابوں میں کہا کہ مجہول سے عادل کی روایت کے بارے میں چند مذہب ہیں،ان میں سے ایك مذہب اس کی تعدیل ہے،کیونکہ عادل کی شان یہ ہے کہ وہ فقط عادل سے روایت کرتا ہے۔دوسرا مذہب  

 


 

 



[1] فواتح الرحموت شرح مسلم الثبوت بذل المستصفٰی مسئلہ مجہول الحال الخ منشورات الشریف الرضی قم ایران ۲ /۱۷۷



Total Pages: 750

Go To