Book Name:Fatawa Razawiyya jild 29

ثانیہا:لیس المبھم من المجھول المقبول عندنا وعند کثیر من الفحول اواکثرھم فان الراوی اذا لم یروعنہ الاواحد ا فمجہول العین نمشیہ نحن وکثیرمن المحققین واذا ز کی ظاھرا لا باطنا فمستور نقبلہ نحن واکثر المحققین کما بینتہ فی "منیر العین فی حکم تقبیل الابہا مین" وظاھر ان شیئا من ھذا الایعرف الابالتسمیۃ فالمبھم لیس منھما فی شیئ بل ھو کمجھول الحال الذی لم تعرف عدالتہ باطن ولا ظاھرا وان خصصناہ ایضا بمن سمی فلیس من المجہول المصطلح علیہ اصلًا وان کان یطلق علیہ اسم المجہول نظرا الی المعنی اللغوی،وتحقیق الحکم فیہ ان ابھام راوغیرالصابی بغیر لفظ التعدیل کحدثنا وثقۃ لیس کحذفہ عندنا فی القبول فان الجزم مع الاسقاط امارۃ الاعتماد بخلاف الاسناد قال فی مسلم الثبوت وشرحہ فواتح الرحموت(قال رجل لایقبل

دوسرا  امر:مبہم اس مجہول میں سے نہیں جو ہمارے نزدیك اور تمام علماء ماہرین یا اکثر کے نزدیك مقبول ہے،اس لیے کہ اگر کسی راوی سے فقط ایك ہی شخص روایت کرے تو وہ مجہول العین ہے،ہم اور کثیر محققین اس کو قبول کرتے ہیں۔اور اگر اس کا ظاہری طور پر تزکیہ ہوجائے مگر باطنی طور پر نہ ہو تو وہ مستور ہے،ہمارے اور اکثر محققین کے نزدیك یہ مقبول ہے جیسا کہ میں نے اس کو رسالہ "منیر العین فی حکم تقبیل الابہامین"میں بیان کیا ہے۔ظاہر ہے کہ مجہول کی دونوں قسموں میں سے کوئی نہیں پہچاناجاتا مگر نام ذکر کرنے سے تو مبہم ان دونوں قسموں میں سے کوئی قسم بھی نہ ہوا بلکہ وہ مجہول الحال کی مثل ہے جس کی عدالت نہ ظاہری طور پر معلوم ہوتی ہے نہ باطنی طور پر،اگر ہم اس(مجہول الحال)کو بھی مختص کرلیں اس کے ساتھ جس کا نام ذکر کیا جاتا ہے تو اس صورت میں مبہم بالکل ہی مجہول اصطلاحی میں سے نہیں ہوگا۔اگرچہ معنی لغوی کے اعتبار سے اس پر مجہول کا اطلاق ہوگا۔اس میں حکم کی تحقیق یہ ہے کہ غیر صحابی کا ابہام بغیرلفظ تعدیل کے جیسے مجھے حدیث بیان کی ایك ثقہ نے۔ہمارے نزدیك قبولیت میں حذف راوی کی مثل نہیں۔کیونکہ اسقاط راوی کے باوجود اس پر جزم،اعتماد کی نشانی ہے بخلاف اسناد کے۔مسلم الثبوت اور اس کی شرح فواتح الرحموت میں ہے کسی شخص نے کہا مجھ سے حدیث بیان کی

 


 

 



Total Pages: 750

Go To