Book Name:Fatawa Razawiyya jild 29

مارواہ التابعی عن رجل من الصحابۃ لم یسم مرسلا [1] اھ مختصرا۔وفیھما(النوع العاشرالمنقطع الصحیح الذی ذھب الیہ الفقہاء والخطیب و ابن عبدالبروغیرھما من المحدثین ان المنطقع مالم یتصل اسناد ہ علی ای وجہ کان انقطاعہ)فھو و المرسل واحد(واکثرمایستعمل فی روایۃ من دون التابعی عن الصحابۃ کمالك عن ابن عمر و قیل ھو ما اختل منہ رجل قبل التابعی)الصواب قبل الصحابی (محذوفاکان)الرجل(اومبھما کرجل)ھذا بناء علی ماتقدم ان فلانا عن رجل یسمّی منقطعا و تقدم ان فلانا عن رجل یسمّی منقطعا وتقدم ان الاکثرین علی خلافہ،ثم ان ھذا القول ھو المشہور بشرط ان یکون السا قط واحد افقط اواثنین لا علی التوالی کما جزم بہ العراقی وشیخ الاسلام[2] اھ ملخصًا۔

قرار دیا جس کو تابعی نے صحابہ میں سے ایك مرد سے روایت کیااس صحابی کے نام کی تصریح نہیں کی اھ اختصار۔اور ان دونوں(تقریب وتدریب)میں ہے دسویں قسم منقطع،صحیح مؤقف جس کی طرف فقہاء کرام اور محدثین میں سے خطیب و ابن عبدالبروغیرہ گئے ہیں وہ یہ ہے کہ منقطع اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی سند متصل نہ ہو،چاہے کسی وجہ سے انقطاع ہو،وہ اور مرسل ایك ہی ہیں،اور اس کا اکثر اطلاق ایسی حدیث پر ہوتا ہے جس میں تابعی سے نیچے درجے کا کوئی شخص صحابہ سے روایت کرے جیسے امام مالك علیہ الرحمہ حضرت ابن عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے روایت کریں۔ایك قول کے مطابق منقطع وہ حدیث ہے جس میں تابعی سے قبل (صحیح یہ ہے کہ صحابی سے قبل)کوئی راوی مختل ہو،چاہے تو وہ محذوف ہو یا مبہم،جیسے کہا جائے "کوئی شخص" یہ اس پر مبنی ہے جس کا پہلے ذکر ہوچکا " یعنی فلاں نے ایك شخص سے روایت کی" یہ منقطع کہلاتی ہے۔اور ماقبل میں گزر چکا ہے کہ اکثریت اس کے خلاف ہے،پھر یہ قول اس شرط کے ساتھ مشہور ہے کہ ساقط فقط ایك راوی ہو یا دوہوں مگرپے درپے نہ ہوں جیسا کہ اس پر عراقی اور شیخ الاسلام نے جزم کیا ہے اھ تلخیص۔ 

 


 

 



[1] تقریب النووی مع تدریب الراوی النوع التاسع المرسل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۱۔۱۶۲

[2] تدریب الراوی فی شرح تقریب النواوی النوع العاشر المنقطع قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۷۱ و ۱۷۲



Total Pages: 750

Go To