Book Name:Fatawa Razawiyya jild 27

 

 

 

 

 

 

فوائدِ فقہیہ وافتاء ورسم المفتی

 

مسئلہ۱۷:             ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ

الجواب:

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ہمارا ایمان ہے کہ آئمہ اربعہ برحق ہیں۔پھر ایك چیز معین پر انہی اماموں نے فرمایا ہے کہ حلال ہے اور حرام ہے۔مثلًا کچھوا کہ ہمارے امام ابوحنیفہ رحمۃ الله تعالٰی علیہ فرماتے ہیں کہ حرام ہے،اور امام شافعی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں حلال ہے،اور یہ محال ہے کہ ایك ہی چیز حرام بھی ہو اور حلال بھی ہو،اور ہم دونوں کو برحق کہیں۔بیّنوا بالدلیل وتوجروا من الجلیل(دلیل کے ساتھ بیان کرو،جلالت والے الله کی بارگاہ سے اجر پاؤ گے۔ت)

الجواب:

سائل نے کچھوے کی مثال صحیح نہیں لکھی۔کچھوا امام شافعی کے صحیح مذہب میں بھی حرام ہے۔ہاں اور اشیاء ہیں کہ ان کے نزدیك حلال ہمارے نزدیك حرام ہیں۔جیسے متروك التسمیہ عمدًا اور ضب،اور بعض شافعیہ کے نزدیك کچھوا بھی۔بہرحال دونوں برحق ہونے کی یہ معنی ہیں کہ ہر امام مجتہد کا اجتہاد جس طرف مودی ہو اس کے اور اس کے مقلدوں کے حق میں الله تعالٰی کا وہی حکم ہے۔شافعی المذہب اگر متروك التسمیہ عمدًا کھائے گا اس کی عدالت میں فرق نہ آئے گا نہ دنیا میں اسے تعزیر دی جائے نہ آخرت میں اس سے اس کا مواخذہ ہو۔اور حنفی المذہب کہ اسے حرام جانتا ہے اور اس کا ارتکاب


 

 



Total Pages: 682

Go To