Book Name:Fatawa Razawiyya jild 27

بات یہ ہے کہ عرب صاحب کو عرب شریف میں رہنے کا اتفاق بہت کم ہوا،عمر کا زیادہ حصہ ہندوستان میں گزرا بہتر ہو کہ آئندہ عربی کو کم تکلیف دیں،اپنی ٹوٹی پھوٹی اردو ہی خرچ کریں،تاویلات کا دروازہ کشادہ ہے۔

 لاتعدم خرقاء حیلۃ(چتر کے لیے حیلوں کی کمی نہیں۔ت)مگر سعتِ کلام میں مجروح و مطروح و شاذ ناممدوح کا دامن پکڑنا تسلیم اعتراض ہے گو پردے کے اندر۔

لطیفہ

عرب صاحب کا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر افتراء

آپ نے اپنی ادب دانی کھولنے کو چند اوراق کی اہاجی عــــــہ لکھی ہے جس میں اطفال مکتب سے کچھ لے دے کر،کچھ ادھر ادھر سے سیکھ سکھا کر دادِ ادب دی ہے اس میں انّ مکسورہ سے شاذ نادر نصب خبر میں حدیث ان قعر جہنم سبعین خریفا[1] ۔

(جہنم کی گہرائی ستر خریف ہے۔ت)تحریر کی اور بے دھڑك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت کردی کہ قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما کثیراان قعرجہنم سبعین خریفا،مجتہد صاحب نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر یہ کھلا افتراء متداول کتاب تك رسائی محال اور اجتہاد کا ادعاء جنابِ من یہ قول ابوہریرہ فارسی ہے رضی اﷲ تعالٰی عنہ اور اس کی نسبت باقی کلام کی ان سطور میں وسعت نہیں۔آپ کو ہوس ہوئی تو پھر معروض ہوگا ان شاء اﷲ تعالٰی وباﷲ التوفیق۔

____________

لاحول ولاقوۃ الا باﷲ

یہ مجتھدصاحب تو نیچری کانفرس کے رکن رکین نکلے

جب سے پہلے خط کا جواب گیارامپور سے عرب صاحب کی بدمذہبی کی نسبت متعدد خبریں آیا کیں جن کے سبب اگر حکم بالجزم میں احتیاط رہی مگر کیف وقد قبل طرز کتابت میں تبدیل ہوئی نامہ دوم سے  

عــــــہ:بالہاء لابالحاء ۱۲


 

 



[1] صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ الخ،قدیمی کتاب خانہ کراچی ۱/ ۱۱۲



Total Pages: 682

Go To