Book Name:Fatawa Razawiyya jild 27

خاتمہ

وہ سوالات کہ عرب صاحب سے کیے گئے اور انہوں نے جواب نہ دیئے اور انہیں بار بار مطلع کردیا ہے کہ بے ان کے جواب کے آپ کی خارجی باتیں مسموع نہ ہوں گی۔

_______________________________________________________

س ۱:کچھ احکامِ شرع ایسے ہیں یا نہیں کہ ابتداءً ان کا علم بے نص صریح یا اجتہاد مجتہد کے نہ ملے گاٰ۔

س ۲:کیا تمام آدمی جمیع احکام کے عالم،معانی نصوص کو محیط،اجتہاد پر قادر ہیں؟

س ۳:کیا جاہلان عاری شترانِ بیمہار ہیں ان پر شریعت کے احکام نہیں؟

س ۴:ان کے لیے احکامِ الہی جاننے کی کیا سبیل ہے اس سبیل کا اختیار ان پر فرض،واجب،جائز کیسا ہے؟

س ۵:آپ نے اپنی عمر تك اﷲ تعالٰی کو کیونکر پوجا اور بندوں سے کس طرح معاملہ کیا،اجتہاد سے یا تقلید سے،آپ شروط اجتہاد سے پُر ہیں یا خالی ؟

س ۶:آپ کو علوم شرعیہ کے تمام اصول و فروع میں اجتہاد پہنچتا ہے یا بعض میں ؟ برتقدیر اخیر جس میں آپ مجتہد ہیں،اس کی تعیین کیجئے اور جس میں نہیں اس میں اپنی راہ بتائیے،برتقدیر اول فقہی مسائل اجتہادی کی دس گھڑی ہوئی صورتیں لائیے جن کا حکم خاص آپ نے استنباط کیا ہو جس کی بنا کے ظاہر و باطن و جرح و تعدیل و تفریع وتاصیل میں آپ دوسر ے کی سند نہ پکڑیں۔

س ۷:تقلید شخصی آپ کے نزدیك کفر ہے یا حرام یا مباح یا واجب؟

س ۸:ائمہ و اقوال میں ہر مکلف نامجتہد کو تخییر ہے یا حکم تخیر اور اس کی کیا سبیل ؟

س ۹:یہ تخییر یا تخیُّر مطلق ہے یا چار اکابر میں محصور ؟

س ۱۰:تلفیق فسق ہے یا جائز؟

س ۱۱:مختلف اعمال میں یا ایك میں بھی ؟

س ۱۲:قبل عمل یا بعد میں ؟

عرب صاحب کو اب ہم مطالبان حق اپنی طرف سے ازسر نو دو ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ختم سال تك ان مسائل کا مفصل جواب دے دیں جس بات میں اجمال رہے گا یا آپ کے بیان پر ایضاحِ حق


 

 



Total Pages: 682

Go To