Book Name:Fatawa Razawiyya jild 27

فصل دوم

جاذبیت عــــــہ کا رَدّ اور اس سے بُطلانِ حرکت زمین پر پچاس۵۰ دلیلیں

 

رَدِّ اوّل:اقول:اہل ہیأتِ جدیدہ کی ساری مہارت ریاضی و ہندسہ و ہیأت میں منہك ہے عقلیات میں ان کی بضاعت قاصر یا قریب صفر ہے وہ نہ طریق استدلال جانتے ہیں نہ داب بحث، کسی بڑے مانے ہوئے کی بے دلیل باتوں کو اصولِ موضوعہ ٹھہرا کہ ان پر بے سرو پا تفریعات کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر وثوق وہ کہ گویا آنکھوں سے دیکھی ہیں بلکہ مشاہدہ میں غلطی پڑسکتی ہے ان میں نہیں ان کے خلاف دلائل قاہرہ ہوں تو سننا نہیں چاہتے، سنیں تو سمجھنا نہیں چاہتے سمجھیں تو ماننا نہیں چاہتے۔دل میں مان بھی جائیں تو اس لکیر سے پھرنانہیں چاہتے۔جاذبیت ان کے لیے ایسے ہی مسائل سے ہے اور وہ اس درجہ اہم ہے کہ ان کا تمام نظام شمسی سارا علم ہیأت اسی پر مبنی ہے۔وہ باطل ہو تو سب کچھ باطل، وہ لڑکوں کے کھیل کے برابر برابر کھڑی ہوئی اینٹیں ہیں کہ اگر گراؤ سب گرجائیں۔ایسی چیز کا روشن قاطع دلیل پر مبنی ہونا تھا نہ کہ محض خیال نیوٹن پر، ایك سیب ٹوٹ کر گرتا ہے اس سے یہ اٹکل دوڑاتا ہے کہ زمین میں کشش ہے جس نے کھینچ کر گرالیا مگر اس پر دلیل کیا ہے جواب ندارد۔

اولًا: عقلائے عالم اثقال میں میل سفل مانتے ہیں کیا وہ میل اس کے گرانے کو کافی نہ تھا یا میل نجانا یوں نہ سمجھ سکتا تھا کہ ثقیل کے استقرار کو وہ محل چاہیے جو اس کا بوجھ سہارے سیب وہی ٹوٹے گا۔جس کا علاقہ شاخ سے ضعیف ہوجائے وہ کمزور تعلق اب اس کا بوجھ نہ سہار سکے ورنہ سبھی نہ ایك ساتھ ٹوٹ جائیں، ادھر تو ضعیف علاقہ کے سبب شاخ سے چھوٹا ادھراس سے نرم تر ملاء ہوا کا ملاء اسے کیا سہارتی لہذا

عــــــہ:تنبیہ:مطلقًا جاذبیت سے انکار نہیں کہ کوئی شَے کو جذب نہیں کرتی مقناطیس و کہر با کا جذب مشہور ہے بلکہ جاذبیت شمس و ارض کا رد مقصود ہے اوّل کا لذاتہ کہ اسی کی بنا پرحرکت زمین ہے اور دوم کا اس لیے کہ اسی کو دیکھ کر اس میں بلادلیل جذب مانا ہے ۱۲ منہ غفرلہ۔


 

 



Total Pages: 682

Go To