Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

 

 

 

بسم الله الرحمن الرحیم

 

 

 

 

کتاب الشفعۃ

(شفعہ کا بیان)

 

مسئلہ ۱:               ۲۷ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ

کیافرماتےہیں علمائےدین اس مسئلہ میں کہ زید ہندو ایك قطعہ زمین کا مالك تھا،اپنے کارندے کی معرفت سب اہل محلہ پر ارادہ بیع کاا علان کرتا رہا،کسی نےخواہش خریداری نہ کی،بکر مسلمان نے جو بذریعہ فیصلہ ثالثی ایك قطعہ زمین ملحقہ قطعہ مذکورہ کا قبل بیع مالك ہوچکا تھا،اسے خریدا،ا وریہ قطعہ بکر قطعہ خالد کا جز ء تھا کہ اب تقسیم ہوگئی ہے۔اور قطعہ خالد کہ وہ بھی مسلمان ہے قطعہ زید کی پشت پر واقع ہے۔مگر اس کی راہ قطعہ زید کی راہ سے بالکل جداہے اور قطعہ زید قطعہ بکر دونوں کے راہ ایك کوچہ سربستہ میں ہے،تکمیل بیع سے چھ دن بعد خالد نے بکر مشتری سے کہایہ زمین میرے ہاتھ بیچ ڈال ورنہ میں بذریعہ شفعہ لے لوں گا۔بکر نے کہا میں خود شفیع تھا،میرے سامنے تیرا شفعہ نہیں خالد ڈیڑھ مہینے تك خاموش رہا اور وپیہ پیش نہ کیا،بلکہ کہا تمھیں مبارك ہو،بعدہ روپیہ پیش کیا اور آمادہ خریداری ہوا،اس صورت میں خالدشفیع ہے یانہیں؟ اور اس کا حق شفعہ ساقط ہو ایا نہیں؟ بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)

الجواب:

صور ت مستفسرہ میں خالد کو ہر گز استحقاق شفعہ نہیں۔

اوّلًا: وہ جار ملاصق ہے۔اور بکر شریك فی حق المبیع۔ درمختارمیں ہے:


 

 



Total Pages: 630

Go To