Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

 

 

 

 

 

 

باب العقیقہ

(عقیقہ کا بیان)

 

مسئلہ ۲۹۶:             از بریلی مسئولہ نواب سلطان احمد خاں صاحب                              ۲/ رمضان المبارك ۱۳۱۰ھ

اگر شخصے عقیقہ دو یا زیادہ طفلان خود ادا کند پس بوقت ذبح شاۃ نیت ہر ہمہ کافی بودیا برائے ہر ایك جانور علیحدہ باید۔

اگر کوئی شخص د ویا اس سے زائد بچوں کا عقیقہ کرے تو کیا ایك بکری ذبح کرتے وقت تمام کی طرف سے نیت کرلینا کافی ہے یا ہر ایك کی طرف سے علیحدہ جانور ہونا چاہئے۔(ت)

الجواب:

گاؤ و شتراز ہفت بچہ بسندہ کند وبز گوسفند جزیك راکفایت نیست،کما فی الاضحیۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

گائے اور اونٹ سات بچوں کی طرف سے کافی ہے۔جبکہ بھیڑ اور بکری ایك سے زیادہ بچوں کے لئے کفایت نہیں کرتیں، جیسا کہ اضحیہ میں ہے والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۲۹۷:            از چتوڑ گڑھ اودے پور میواڑ مرسلہ نور محمد ولد عبدالحکیم چھینہ                       ۵ ربیع الاول ۱۳۳۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے عقیقہ کیا اور اس کے چمڑے کی قیمت کرکے قبل وصول قیمت کے اتنے ہی روپے کا اپنے پاس سے سامان منگواکر کھانا پکوا کر کچھ کھانا اباحۃً


 

 



Total Pages: 630

Go To