Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

 

 

 

 

 

 

الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ ۱۳۰۷ھ

(چرمہائے قربانی کے حکم کی طرف اشارہ کرنیوالی صاف ستھری کتاب)

 

مسئلہ ۲۹۳:

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ما قولکم دام فضلکم فیمن باع جلد اضحیتہ لیصرف ثمنہ فی وجوہ القرب کاعانۃ المدارس الاسلامیۃ وشراء حصر المساجد وزیت قنادیلہ وغیر ذٰلك من القربات التی لا تملیك فیہا۔ فہل ہو جائز والصرف الی تلك الوجوہ سائغ ام لا۔ بل یکون صدقۃ واجبۃ لایصرف الا فی مصارفہا افیدونا رحمکم اﷲ تعالٰی۔

الجواب:الحمد ﷲ وبہ نستعین،والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔ما تقرب

خلاصۃ"الصافیۃ الموحیۃ لحکم جلود الاضحیۃ"

مسئلہ:علمائے دین ا س مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ قربانی کی کھال کو راہ ثواب میں خرچ کرنے کے لئے بیچنا جیسے مدارس اسلامیہ کی اعانت مسجد کے لئے چٹائی،روشنی وغیرہ کارثواب جس میں کسی خاص فقیر کو مالك نہیں بناتے،جائز یا ناجائز؟ اور ایسا پیسہ ان مصارف میں صرف ہوسکتاہے یا وہ صدقہ واجبہ ہے اور اس کافقیر کو مالك بنانا ضروری ہے۔بینوا توجروا

جواب:الله تعالٰی کے لئے تعریف ہے اور ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں درود وسلام سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وسلم پر اور ان کی آل واصحاب پر،

 


 

 



Total Pages: 630

Go To