Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں،بعض جگہ دستور ہے چند گائے جمع کرلی گئیں،اور ان میں حصے مقرر کردئے،اور مالك حصص سے کہہ دیا کہ یہ گائے تمھاری طرف سے کی جاتی ہے۔اس شرط پرکہ یہ چرم فلاں مدرسہ میں دینا ہوگا فلاں کام میں صرف کرنا ہوگا اس قسم کے شرائط عندالشرع جائز ہیں یا ناجائز؟ بینوا توجروا

الجواب:

جبکہ کوئی شخص ان میں کسی معین گائے کا ایك حصہ یا چند حصص خریدے اور ان لوگوں کو اپنی طرف سے قربانی کرنے کی اجازت دے اور یہ شرط ٹھہرے کہ اس کی کھال مدرسہ دینیہ یا فلاں نیك کام میں صرف کرنا ہوگی تویہ جائز ہے۔اس میں حرج نہیں۔

وھوان کان بیعا بشرط فلیس شرطا فیہ نفع احد المتعاقدین،اوالمعقود علیہ الصالح للاستحقاق۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

یہ اگر چہ بیع بالشرط ہے لیکن س شرط میں عاقدین اور معقود علیہ میں سے کسی کا نفع نہیں ہے معقود علیہ نفع کے استحقاق کا اہل نہیں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

__________________


 

 



Total Pages: 630

Go To