Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

 

 

 

 

 

 

 

کتاب الاضحیہ

(قربانی کا بیان)

 

مسئلہ ۱۸۶:                              از موضع مہچندی ضلع پیلی بھیت مرسلہ حاجی نصرالدین صاحب                     ۱۴ محرم ۱۳۱۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جلد چہارم کتاب شرح وقایہ کتاب الاضحیہ ص ۴۳ میں تحریر ہے کہ فرمایا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جو شخص دیکھے تم میں سے چاند ذی الحجہ کا اور ارادہ کرے قربانی کا تو چاہئے کہ اپنے بال اور ناخن کو روك رکھے یعنی نہ کاٹے،روایت کیا جماعت نے،اب ایك شخص اہل اسلام کا ارادہ قربانی کرنے کا ہے،تو وہ شخص دیکھنے چاند ذی الحجہ کے سے اپنے بال اور ناخن نہ روك رکھے یا حجامت کرالے،یا اس نے یہ حکم نہ مانا،اور رسول مقبول صلی اﷲ صلی تعالٰی علیہ وسلم کی حکم عدولی کرے تو اس کے واسطے شرع شریف میں سے کیا حکم ہے؟ اور کیاکہا جائے گا ؟ جواب تحریر فرمائے، اور قربانی اس کی صحیح طورپر ہوگی یا کوئی نقص اس کی قربانی میں عائد ہوگا؟ بینواتوجروا

الجواب:

یہ حکم صرف استحبابی ہے کرے تو بہترہے نہ کرے تو مضائقہ نہیں،نہ اس کو حکم عدولی کہہ سکتے ہیں نہ قربانی میں نقص آنے کی کوئی وجہ،بلکہ اگر کسی شخص نے ۳۱ دن سے کسی عذر کے سبب خواہ بلا عذر ناخن تراشے ہوں نہ خط بنوایا ہو کہ چاند ذی الحجہ کا ہوگیاتو وہ اگرچہ قربانی کاارادہ رکھتا ہو اس مستحب پر عمل نہیں کرسکتا اب دسویں تك رکھے گا تو ناخن وخط بنوائے ہوئے اکتالیسواں دن ہوجائے گا،


 

 



Total Pages: 630

Go To