Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

الجواب:

کسی جانور کا شکار اگر غذا یا دوا یا دفع ایذا یا تجارت کی غرض سے ہو جائز ہے اور جو تفریح کےلئے ہو جس طرح آج کل رائج ہے اور اسی لئے اسے شکار کھیلنا کہتے اور کھیل سمجھتے ہیں،اور وہ جو کھانے کے لئے بازار سے کوئی چیز خرید کر لانا عارجانیں،دھوپ اور لو میں خاك اڑاتے اور پانی بجاتے ہیں،یہ مطلقًا حرام ہے۔کما نص علیہ فی الاشباہ والدرالمختار وغیرہا (جیسا کہ اشباہ اور درمختار وغیرہما میں اس پر نص کی گئی ہے۔ت)پھر مچھلی کا شکار کہ جائز طور پرکریں،اس میں زندہ گھیسا پروناجائز نہیں،ہاں مارکر ہو یا تلی وغیرہ بے جان چیز تو مضائق نہیں،یہ سب اس فعل کی نسبت احکام تھے،رہی شکار کی ہوئی مچھلی اس کا کھانا ہر طرح حلال ہے،اگر چہ فعل شکار ان ناجائز صورتوں سے ہوا ہو،والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۸۱:از حیدرآباد دکن محلہ افضل گنج اقامت گاہ مفتی لطف الله صاحب علی گڑھ جج ریاست حیدرآباد مرسلہ جناب صاحبزادہ مولوی سید احمد اشرف میاں صاحب متوطن کچھوچھا شریف ضلع فیض آباد،شاگردرشید مفتی صاحب مذکور ۳ محرم الحرام شریف ۱۳۱۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ بندوق کی گولی سے مارا شکار حلال ہے یا حرام،گولی کو حلت صیدمیں تیر کاحکم ہے یانہـیں؟ لمبی شکل کی جو گولیاں ہوتی ہے ان کا کیاحکم ہے؟ بینوا توجروا

الجواب:

بندوق کی گولی دربارہ حلت صید حکم تیر میں نہیں،اس کا مارا ہوا شکار مطلقًاحرام ہے۔کہ اس میں قطع وخرق نہیں،صدم ودق وکسر وحرق ہے،شامی میں ہے:

لایخفی ان الجرح بالرصاص انما ھو بالاخراق، و الثقل بواسطۃ اندفاعہ العنیف اذالیس لہ حد فلا یحل وبہ افتی ابن نجیم [1]۔

یہ مخفی نہیں کہ تابنے کی گولی کا زخم اس کے جلانے اور ثقل کی وجہ سے ہے جو بذریعہ شدید دباؤ کے حاصل ہوتاہے کیونکہ دھار نہیں ہوتی تو شکار حلا نہ ہوگا،اور یہی ابن نجیم کافتوٰی ہے۔ (ت)

مطلول شکل کی جوگولیاں ہیں اولًا: وہ بھی دھار دار نہیں ہوتی بلکہ تقریبا بیضوی شکل پر سنی جاتی ہیں،اور آلہ کا حدید یعنی تیز ہونا اگرچہ شرط نہیں مگر محدد یعنی باڑھ دار ہونا کہ قابل قطع وخرق ہو ضرور ہے۔ثانیًا: اگر بالفرض گولی تیر کی طرح دھار دار رہی بنائی جائے اور اسے بطور معہود بندوق سے سرکریں جب بھی


 

 



[1] ردالمحتار کتاب الصید داراحیاء التراث العربی بیروت ۵ /۳۰۴



Total Pages: 630

Go To