Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

پاس سے لائے دیتے ہیں،کبھی نہ مانیں گے بلکہ شکار کے بعدخود اس کے کھانے سے بھی چنداں غرض نہیں رکھتے بانٹ دیتے ہیں، تو یہ جانا یقینا وہی تفریح وحرام ہے۔ درمختارمیں ہے:

الصید مباح الا للتلہی کما ھو ظاھر [1]۔

شکار مباح ہے مگر لعب کے طور پر مباح نہیں۔(ت)

اسی طرح اشباہ وبزازیہ ومجمع الفتاوٰی وغنیہ ذوی الاحکام وتاتارخانیہ وردالمحتار وغیرہا میں عامہ اسفار میں ہے والله سبحانہ وتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۷۹:                             معرفت مولوی امام بخش صاحب طالب علم مدرسہ منظر الاسلام مسئولہ وحید احمد خاں ۱۸ محرم ۱۳۳۹ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شکار تفریحا کھیلنا حرام ہے،زید کہتاہے کہ شکار اگر گوشت کھانے کے واسطے کھیلا جائے تو کچھ حراج نہیں کیونکہ ہم روز گوشت ہی کھاتے ہیں اور چونکہ آج کل گوشت مہنگا ہے اس واسطے شکار سے ہم کو فائدہ ہوگا،اور اگر یہ کہو کہ کسی جان بے فائدہ لینا ٹھیك نہیں توروز گوشت کیوں کھاتے ہو،زیدکی اس گفتگو پر یہ سوال کیا گیا کہ تم مہنگے کا سوا ل پیش کرتے ہو،اور اگر تمھیں شکار سے پیٹ ہی بھرنا مقصود ہے تو روز شکار کیوں نہیں کھیلتے تاکہ تم کو پورا فائدہ حاصل ہو،گاہے گاہے کیوں شکار کھیلتے ہو،وہ بھی اپنے ہمعمروں کو ساتھ لے جاکر،اس سے یہ ظاہر ہوا کہ تم تفریحا ہی شکار کھیلتے ہو،جس کی اجازت شرع شریف نہیں دیتی یہ بے نواحضور سے مستفتٰی ہے کہ زید کی گفتگو صحیح ہے یا نہیں؟ اور زید کی یہ تاویل قابل سماعت ہوگی یا نہیں جبکہ نہ مجبوری ہے نہ کسی بیماری کی صحت شکار کے گوشت سے مدنظر ہے۔

الجواب:

تفریح کے لئے شکار حرام ہے۔اور غذا یا دوا کے لئے مباح ہے۔اور نیت کا علم الله کو ہے۔اگر واقعی وہ کھانے ہی کے لئے شکار کو جاتاہے تفریح مقصود نہیں تو حرج نہیں،اور اس کی علامت یہ ہے کہ مچھلی کے شکار کو جانا چاہئے،اور مچھلیاں بازار میں ملتی ہوں اور دام رکھتاہو،نہ خریدے بلکہ شکارہی کرکے لائے اور وہ تکالیف ومصائب جو اس میں ہوتی ہے گوارا کرے تو ہر گز اسے کھانا مقصو دنہیں بلکہ وہی تفریح والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۸۰:                                              مسئولہ علی احمد صاحب                               ۱۵ جمادی الآخرہ ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شکار مچھلی کا کھانا جائز ہے یاناجائز؟ شکار چارہ تلی سے اور گھیسے سے کھیلا جاتاہے۔


 

 



[1] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الصید مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۶۱



Total Pages: 630

Go To