Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

 

 

 

 

 

 

کتاب الصید

(شکار کا بیان)

مسئلہ ۱۷۸:          ۱۰ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ

(آپ کا کیا فرمان ہے)اندریں مسئلہ کہ ایك شخص روز شکار بندوق کا شوقیہ کھیلتاہے۔پس بحکم شرع شریف کے کس قدر شکار کھیلناجائز ہے اور کس وقت میں؟ اور وہ شکاری ہر روز شکار کھیلنے سے گنہگار ہوتاہے یانہیں؟ دریں امورچہ حکم دارد،بینوا مفصلا توجرو اکثیرا۔

الجواب:

شکار کہ محض شوقیہ بغرض تفریح ہو،جیسے ایك قسم کا کھیل سمجھا جاتاہے ولہذا شکار کھیلنا کہتے ہیں،بندوق کا ہوخواہ مچھلی کا،روزانہ ہو خواہ گا ہ گاہ۔مطلقًا باتفاق حرام ہے۔حلال وہ ہے جو بغرض کھانے یا دوایاکسی اور نفع یا کسی ضرر کے دفع کو ہو آج کل بڑے بڑے شکاری جو اتنی ناك والے ہیں کہ بازار سے اپنی خاص ضرورت کے کھانے یا پہننے کی چیزیں لانے کو جانا اپنی کسر شان سمجھیں،یا نرم ایسے کہ دس قدم دھوپ میں چل کر مسجد میں نماز کے لئے حاضر ہونا مصیبت جانیں،وہ گرم دوپہر،گرم لو میں گرم ریت پر چلنا اور ٹھہرنا،اور گرم ہوا کے تھپیڑے کھانا گوارا کرتے اور دو۲ دو۲ پہر دو۲ دو۲دن شکار کے لئے گھر بار چھوڑے پڑے رہتے ہیں کیا یہ کھانے کی غرض سے جاتے ہیں،حاشا وکلا بلکہ وہی لہو ولعب ہے اور بالاتفاق حرام،ایك بڑی پہچان یہ ہے کہ ان شکاریوں سے اگر کہے مثلا مچھلی بازار میں ملےگی وہاں سے لے لیجئے ہر گز قبول نہ کرسکیں گے،یا کہئے کہ اپنے


 

 



Total Pages: 630

Go To