Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

حرمت بحکم اوست ہمچوں جلد حیوان،والله تعالٰی اعلم۔

(۳)تصریح ایں جزئیہ ایدوں بخیال نیست نہ اینجا کتب حاضر دارم اما ظاہر ممانعت است ہمچوں خانہ زنبور کما نص علیہ فی الہندیۃ [1]عن الملتقط عن الامام خلف بن ایوب رحمہ الله تعالٰی زیراکہ نسجش متولد از لعاب اوست۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

اس کا جزء ہے جیسا کہ حیوان کی کھال،والله تعالٰی اعلم۔

(۳)مکڑے کے جالے کا حکم خیال میں نہیں ہے اور نہ ہی یہاں میری کتب ہیں لیکن ظاہری طور پر ممنوع ہے جس طرح زنبور کا گھر ممنوع ہے جیسا کہ ہندیہ میں ملتقط سے اور وہاں امام خلف بن ایوب رحمہ الله تعالٰی سے منقول ہے کیونکہ جالا مکڑے کے لعاب سے بنتاہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)

مسئلہ ۱۷۷:            از موضع ڈرہال ضلع مراد آباد مرسلہ شیخ محمد اسمعیل صاحب          ۲۱ شوال ۱۳۱۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض لوگ ملائم ہڈی کو چبالیتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟ اور ایك ہڈی ملائم گائے کے نشانہ میں ہوتی ہے جس کو چبنی کہتے ہیں اور اسے گوشت کے ساتھ کھالیتے ہیں۔بینوا توجروا

الجواب:

جانور حلال مذبوح کی ہڈی کسی قسم کی منع نہیں جب تك اس کے کھانے میں مضرت نہ ہو،اگر ہو تو ضرر کی وجہ سے ممانعت ہوگی،نہ اس لئے کہ ہڈی خود ممنوع ہے۔والله تعالٰی اعلم۔

____________________


 

 



[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الذبائح الباب الثانی نورانی کتب خانہ کراچی ۵/ ۲۹۰



Total Pages: 630

Go To