Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

حیث قال السمك الصغار کلہا مکروھۃ کراۃ التحریم ھو الاصح [1]۔

جہاں کہں کہ چھوٹی تمام مچھلیاں مکروہ تحریمہ ہیں یہی صحیح ہے۔(ت)

جھینگے کی صورت تمام مچھلیوں سے بالکل جدا اور گنگچے وغیرہ کیڑوں سے بہت مشابہ ہے۔اور لفظ ماہی غیر جنس سمك پر بھی بولا جاتاہے۔جیسے ماہی سقنقور،حالانکہ وہ ناکے کا بچہ ہے کہ سواحل نیل پر خشکی میں پیدا ہوتا ہے۔اور ریگ ماہی کہ قطعا حشرات الارض اور ہمارے ائمہ سے حلت روبیان میں کوئی نہیں معلوم نہیں اورمچھلی بھی ہے تو یہاں کے جھینگے ایسے ہی چھوٹے ہیں جن پر جواہر اخلاطی کی وہ تصحیح وارد ہوگی،بہرحال ایسے شبہہ واختلاف سے بے ضرورت بچنا ہی چاہئے۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۷۴ تا ۱۷۶:                 از بریلی مرسلہ نواب مولوی سلطان احمد خاں صاحب     ۲ رمضان مبارك ۱۳۱۰ھ

ماقولکم غفرالله لکم ھذہ المسائل افیدونا یرحمکم اﷲ تعالٰی:

(۱)جھینگا خوردن چہ حکم دارد؟

(۲)پوست بیضہ خوردن؟

(۳)نسج عنکبوت خوردن؟

ان مسائل میں آپ کا کیاحکم ہے ہمیں بتاؤں،الله تعالٰی تم پر رحم فرمائے:

(۱)جھنگا کا کھانا کیا حکم رکھتاہے؟

(۲)انڈے کا چھلکا کھانا؟

(۳)مکڑے کا جالا کھانا؟

الجواب:

(۱)مختلف فیہ است۔ہر کہ از جنس ماہی دانستہ حلال گفتہ فان السمك بجمیع انواعہ حلال عندنا۔ہر کہ غیراو گمان بُردہ بحرمت رفتہ اذکل مائی ماخلا السمك حرام عندنا،اسلم در ہمچوں مسائل اجتناب است الحمد لله فقیر و اہل بیت فقیر عمر باست کہ نخوردہ ایم ونہ ہرگز ارادہ خوردنش دادیم۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

(۲)پوست بیضہ جز اوست پس درحلت و

(۱)مختلف فیہ ہے۔جو حضرات اس کو مچھلی کی قسم کہتے ہیں حلال کہتے ہیں،کیونکہ مچھلی کی تمام اقسام ہمارے نزدیك حلال ہیں،اور جو حضرات اس کو غیر مچھلی کہتے ہیں وہ حرام مانتے ہیں کیونکہ مچھلی کے ماسوا تمام آبی جانور ہمارے نزدیك حرام ہیں،ایسے مسائل میں اجتناب بہترہے،الحمدالله اس فقیر اور اس کے گھروالوں نے عمر بھر نہ کھایا اور نہ اسے کھائیں گے، والله تعالٰی اعلم۔

(۲)انڈے کا چھلکا انڈے کے حکم میں ہے کیونکہ

 


 

 



[1] جواہرالاخلاطی کتاب الذبائح قلمی نسخہ ص۲۲۹۔۲۸۷



Total Pages: 630

Go To