Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

 

 

 

 

 

 

کتاب الذبائح

(ذبح کابیان)

مسئلہ ۷۱:                                شہر بریلی محلہ ابراہیم پورہ مسئولہ از عزیز الدین                           ۳ شوال ۱۳۳۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ا س مسئلہ میں کہ ذبیحہ بعد غروب آفتاب وقبل طلوع آفتاب مکروہ ہے یانہیں؟ اور اگر مکروہ ہے تو کس طرح ہوگا،اور اگر ایسے ہی وقت مذکور میں بلی کسی پرند یا مرغ کو ہلاك کرے،اورذبح کچھ تھوڑا خون ذبیحہ فورا یا کچھ دیر بعد دے،تو اس کے واسطے کیا حکم ہے؟ آیا ذبیحہ جائز ہوگیا یانہیں؟ اور وہ ذبیحہ اگر جائز ہوگیا تو وہ بھی مکروہ ہے یا نہیں؟ اور اگر مکروہ ہے تو کیسا؟ بینوا توجروا

الجواب:

رات کو ذبح کرنا اندیشہ غلطی کے باعث مکروہ تنزیہی خلاف اولٰی ہے۔اور ضرورت واقع ہو مثلا صبح کے انتظار میں جانور مرجائے گا تو کچھ کراہت نہیں لانہ الاٰن مامور بہ حذرا عن اضاعۃ المال اھ(کیونکہ مال کے ضائع ہونے کے خطرہ کی بناء پر وہ اب اس کا مامور ہے۔اھ ت)پھر کراہت اس فعل میں ہے ذبح اگر صحیح ہوجائے ذبیحہ میں کچھ کراہت نہیں لتبین ان الغلط لم یقع(واضح ہوجانے پر کہ غلطی نہ ہوئی۔ت) درمختار میں ہے:

کرہ تنزیہا الذبح لیلا لاحتمال

غلطی کے احتمال کی وجہ سے رات کو ذبح کرنا

 


 

 



Total Pages: 630

Go To