Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

فی اوقات الخصاف حانوت اصلہ وقف و عمارتہ لرجل،وھو لایرضی ان یستاجر ارضہ باجر المثلی، قالو ان کانت العمارۃ بحیث لو رفعت یستاجر الاصل باکثر مما یستاجر صاحب البنا،کلف رفعہ، ویؤجر من غیرہ،والایترك فی یدہ بذٰلك الاجر[1] اھ یفید انہ احق من غیرہ حیث کان مایدفعہ اجر المثل۔

خصاف کے باب اوقات میں ہے کہ دکان کی زمین وقف ہے اور اس کی عمارت کسی شخص کی ہے اور وہ اس زمین کی مثلی اجرت پر راضی نہیں ہوتا توعلماء نے فرمایا کہ متولی کو چاہئے کہ اگر عمارت اٹھائی جاسکتی ہو تو زمین کسی دوسرے کو پہلے کی نسبت زیادہ اجرت پر دے دے اور پہلے کو عمارت اکھاڑنے پر مجبور کرے اور دوسرے کو اجرت پر دے دے،اور اگر عمارت اکھاڑنا ممکن نہ ہو تو پہلے کے پاس اسی اجرت پررہنے دے۔ (ت)

اسی کے وقف میں ہے:

حیث کان یدفع اجرۃ مثلہا لم یوجد ضرر علی الوقف فتترك فی یدہ فلومات کان لورثتہ الاستبقاء الااذا کان فیہ ضرر علی الوقف بوجہ ما،بان کان ھو او وارثہ مفلسا،اوسئی المعاملۃ،اومتغلبا یخشی علی الوقف منہ اوغیر منہ او غیر ذٰلك من انواع الضرر [2]۔

اگر مستاجر مثل اجرت دیتاہے اور وقف کو ضرور نہ ہو تو اسی کے پاس رہنے دی جائے اور اگروہ فوت ہوجائے تو اس کے ورثاء کو باقی رکھنے کا حق ہوگا ہاں اگر وقف کو کسی طرح اس میں ضررہو مثلا دکان بوسیدہ ہے اور ورثاء مفلس ہوں یا وہ لاپرواہ ہو یا وہ غلبہ پانےکی کوشش میں ہوں اس سے وقف کو خطرہ ہو یا کوئی کسی قسم کا ضرر ہو تو واپس لے(ت)

عقود الدریہ میں ہے:

سئل فی ذی مسکۃ فی ارض ترکھا ثلث سنوات اختیارا منہ بلاون عزر شرعی،فہل سقطت مسکتہ، الجواب سقط حقہ بالترك

ان سے کرایہ دار کی بنائی عمارت کے متعلق سوال ہوا کہ وہ کریہ دارتین سال سے اپنی مرضی پر دکان کو چھوڑ رکھے بغیر عذر شرعی کے تو کیا اس سے عمارت پر اس کا حق ختم ہوجائے گا؟ جواب

 


 

 



[1] ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۶

[2] ردالمحتار کتاب الوقف داراحیاء التراث العربی بیروت ۳/ ۳۹۱



Total Pages: 630

Go To