Book Name:Fatawa Razawiyya jild 20

اس سے نکال کر دوسرے کو دینا مطلقًا جائز ہے خواہ زمین مملوکہ ہو،یا موقوف،یا سلطانی،ردالمحتارمیں اوائل بیوع میں ہے:

امامجرد وضع الیدعلی الدکان ونحوہا و کونہ یستاجرہا عدۃ سنین بدون شیئ مماذکر (او یاتی) فہو غیر معتبر،فللموجر اخراجہا من یدہ اذا مضت مدۃ اجارتہ وایجارھا لغیرہ کما اوضحناہ فی رسالتنا تحریر العبارۃ [1]۔

مثلا دکان پرخالی قبضہ رکھنا،اورکئی سال سے اجارہ پر لیاہونا مذکورہ یا آیندہ ذکر ہونے والی اشیاء کے بغیر ہوتو وہ غیر معتبرہے تو اجارہ پر دینے والے کو مدت اجارہ ختم ہونے کے بعد قبضہ کو چھڑانے اور دسرے کو اجارہ پر دینے کا حق ہے جیسا کہ ہم نے اسے اپنے رسالہ تحریر العبارۃ میں واضح کردیا ہے۔(ت)

ہاں اگر زمین ناقابل زراعت تھی اس نے اسے بنایا کمایا،اس میں چوگزی وغیرہ کھودے یا اس میں اپنی دوسری زمین سے لاکر مٹی بچھائی یا پیڑ لگائے یا کوئی عمارت بنائی،

ویقال للاول الکراب،والاخر دھو ما،اذا اضاف فیہا شیئا من ملکہ کتراب وغرس وبناء الکردار، و القبۃ،واذا فعل ھذ افی الحوانیت یمسی جدکا او کدکا،فان کان ممالاینقل ویرکب للقرار کالبنا، و الاغلاق،یسمی سکنی والکل یقال لہ مسکۃ، ومشد مسکۃ،وھناك اطلاقا ت اخرکما یعلم من مساقاۃ العقود وبیوع ابن عابدین۔

پہلی کو کراب،اور دوسری کو دھوم کہتے ہیں اور اس میں اپنی کسی ملکیت کا اضافہ کیا مثلا مٹی ڈالی،یا پودے لگائے دالان اور قبہ بنایا اور اگر یہ تصرفات دکانوں میں کئے تو اسے جدك یا کدک،یا مشد مسکد کہتے ہیں،اور دیگر اطلاقات بھی یہاں ہیں جیسا کہ عقود الدریہ کے باب مساقاۃ اور ابن عابدین کے بیوع سے معلوم کئے جاسکتے ہیں۔(ت)

تواگر وہ زمین مملوکہ نہیں بلکہ سلطانی ہے یعنی میت المال کی،جسے یہاں سرکاری کہتے ہیں،یاوقف ہے توالبتہ ان کاروائیوں سے اس کے لئے حق قرار ثابت ہوگا کہ بلاوجہ شرعی وہ زمین کبھی اس کے قبضہ سے نہ نکالی جائے گی،اور وہ مرجائے تو اس کا بیٹا ا س کے قائم مقام ہوگا۔مع تفاصیل مذکورہ فی الفقہ،جامع الفصولیں وغیرہ میں ہے:

بنی المستاجر اوغرس فی ارض الوقف

اجارہ پرلینے والے نے وقف زمین میں تعمیر کی یا

 


 

 



[1] ردالمحتار کتاب البیوع داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۱۷



Total Pages: 630

Go To