Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

کتاب الاقرار

(اقرار کا بیان)

 

مسئلہ ۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے ایك امرکا پیش قاضی اقرار کیا اور اس اقرارکا معترف تھا،اب اس امر سے انکار کرتاہے،آیا یہ انکار اس کا معتبر ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب:

صورت مسئولہ میں زید اپنے اقرار پرماخوذ اور انکار اس کا مردود ہوگا،

فی العالمگیریۃ ان کان الواھب اقر بذلك عندالقاضی والعبد فی یدہ اخذ باقرارہ [1] وفی الاشباہ والنظائر اذا اقربشیئ ثم ادعی الخطألم تقبل کمافی الخانیۃ [2]، واﷲ تعالٰی اعلم۔

عالمگیری میں ہے اگر ہبہ کرنے والے نے یہ اقرار کیا حالانکہ غلام اس کے قبضہ میں ہے تو وہ اپنے اقرار کی بناء پرماخوذ اور پابند ہوگا۔اور الاشباہ والنظائر میں ہے جب کوئی کسی چیز کا اقرار کرلے پھر اقرار کے خطا ہونے کا دعوٰی کرے تو یہ دعوٰی مقبول نہ ہوگا،جیسا کہ خانیہ میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

 


 

 



[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الہبۃ الباب التاسع نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۳۹۸

[2]  الاشباہ والنظائر کتاب الاقرار الفن الثانی ادارۃالقرآن کراچی ۲ /۲۰



Total Pages: 692

Go To