Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

بسم الله الرحمن الرحیم

 

 

 

 

 

کتاب ا لوکالۃ
(وکالت کا بیان)

مسئلہ ۱:    از کمیپ میرٹھ لال کرتی بازار محلہ گھوسیاں مرسلہ شیخ غلام احمد صاحب            ۴ رمضان المبارك ۱۳۱۵ھ

جناب مولٰنا! بعد تقدیم سلام عرض یہ ہے کہ اس مسئلہ کی ضرورت ہے جلد مشرف فرمائیں۔

بعض شخصوں نے کچھ روپے زید کو دئے کہ ان کی کتابیں دینیہ لے کر طالبعلموں کو دے دو۔زید کے پاس خود وہ کتابیں دینیہ موجودتھیں اس نے اپنے پاس سے حسب نرخ بازار کتابیں لے کر طالبعلموں کو تقسیم کردیں اور وہ روپے اپنی کتابوں کی قیمت میں آپ رکھ لئے اور یہ سمجھا کہ میں نے یہ بیع اصالۃ اور خرید وکالۃ کی ہے اور مقتضائے حال سے قطعا معلوم ہے کہ مالکوں کو ہر گز کچھ غرض اس سے متعلق نہ تھی کہ بازار ہی سے کتابیں خریدی جائیں اسی واسطے انھوں نے معاملہ میں یہ قیدنہیں لگائی ان کا اصل مقصد تقسیم کتب سے تھا وہ زید نے بخوبی کردیا۔اب سوال یہ ہے کہ یہ تقسیم کتب مالکوں کی طرف سے ہوگئی یا نہیں؟ اور اگر نہیں ہوئی تو اب کیا کیا جائے؟ کتابیں واپس نہیں ہوسکتیں،بالکل یادنہیں رہاکہ وہ طالبعلم کون کون تھے،زیادہ زمانہ گزر گیا۔اور مسئلہ میں شبہ اب پڑا اور وہ روپے بھی باقی نہیں رہے،بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دئے جاؤ گے۔ت)


 

 



Total Pages: 692

Go To