Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

امانۃ اس کے سپرد کردی،اوریومیہ چندہ بدستور جاری رکھا،اور اس سے کہہ دیا کہ جب یہ رقوم چاہ بنانے کے قابل ہوجائے گی تو تم سے یہ روپیہ لے کر چاہ بنایا جائے گا۔کچھ عرصہ کے بعد اس امانت دار نے بغیر مشورہ قوم کے اپنی رائے سے ضرورت والے، لوگوں کو وہ روپیہ قرض بلا سود قوم ہی کے لوگوں کو دینا شروع کرکے انھیں مقروض آدمیوں کو اپنا طرفدار بنالیا،جب قوم کو یہ حال معلوم ہوا تو اکثر نے چندہ دینا بندکردیا،اور قوم کے اعتراض پر امین نے یہ جواب دیاکہ میں نے اس روپیہ کانام خزانہ بیت المال رکھ دیاہے۔سوال یہ ہے کہ وہ روپیہ جو قوم نے ایك خاص کام یعنی چاہ بنانے کے لئے جمع کیا تھا،اب اس امانتدار نے بلارضامندی ورائے قوم کے خزانہ بیت المال بنالیا ہے۔یہ فعل اس کا شرعا درست ہے یانہیں اور اس کا نام خزانہ بیت المال رکھنا حدیث سے ثابت ہے یانہیں؟

(۲)اب وہ امین قرض روپیہ حیثیت داروں کو دیتاہے غریب لوگوں کو نہیں دیتا،اور دیتاہے تو کسی امیر کی ضمانت پر،اکثر توغریبوں کو یہ جواب دیتاہے کہ تم کو دے کر واپس کہاں سے لیں گے کیا شرعا یہ درست ہے کہ خزانہ بیت المال جو عام چندہ ہے اس میں سوائے امیروں کے غریبوں کوقرض نہ دیا جائے؟

(۳)جو شخص روپیہ قرض لینے کی غرض سے چندہ دے اور پھر قرض بھی لے،تو یہ چندہ دینے والا مستحق ثواب ہے یانہیں؟ مثلا ایك شخص کچھ روپیہ قرض لیتاہے۔جب تك قرض لیا ہو اور روپیہ ادانہ ہو تب تك وہ چندہ دیتاہے بعدکو بند کردیتاہے۔

(۴)قوم امانت دار سے حساب روپیہ کا مانگتی ہے،اب وہ امین حساب پیش نہیں کرتا کیا شرعا اس پر حساب پیش کرنا ضروری ہے یانہیں؟

(۵)جو لوگ روپیہ قرض نہیں لیتے اور اس امانت دار کی رائے کے شریك نہیں ہوتے ان سے وہ امین یہ کہتاہے کہ تم اس بیت المال کے خلاف نہیں ہوبلکہ کلام پاك کے خلاف ہو،کیا خزانہ بیت المال کایہ طریقہ ہے،اس صورت سے کلام پاك سے ثابت ہے؟ فقط

الجواب:

یہ فعل اس کا حرام ہے اور اس کا یہ نام حدیث سے ثابت نہیں بلکہ شیطانی وسوسہ کی ایجاد ہے۔والله تعالٰی اعلم۔غرض یہ ساری کاروائی حرام ہے۔اسے کلام الله کے خلاف کہنا شیطنت ہے۔او ر وہ جو قرض ادا ہونے تك چندہ دیتاہے وہ معنی سود ہے۔او ر یہ شخص امانت دار نہیں غاصب ہے اور اس کے ذمہ تفہیم حساب لازم نہیں،بلکہ جس قدر جمع تھا سب کا واپس دینا اس پر فرض ہے اور اگر ا س پر اس نے


 

 



Total Pages: 692

Go To