Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

(۲)زید نے بکر کا مال ناجائز طریق مثلا غصب یا چوری یا خیانت یا ظلم سے لے لیا تو کیا بکر کو جائز ہے کہ جب زید کے مال پر قابو پائے،تو بمقدار اپنے مال کے اس کے مال میں سے بلا رضامندی زید کے لے لے۔بینوا توجروا

الجواب:

(۱)اگر بلاتعدی ٹوٹی یا ضائع ہوئی تو کسی پرنہیں،اوراگر ایك شریك نے قصدا توڑا دیا ضائع کردیا تو دوسروں کے حصوں کا تاوان دے گا۔والله تعالٰی اعلم۔

(۲)اپنے حق تك لینا جائز ہے کہ وہ زید کا مال نہیں اس کا ہے۔اصل مذہب میں جنس مال کی اجازت ہے۔مثلا سوروپے اس کے اس نے ظلما لے لئے اسے اس کے روپے نہوں عــــــہ اور فتوٰی اس پر ہے۔کہ اپنے حق کی جنس نہ ملے تو غیر جنس سے بھی مقدار حق تك لے سکتا ہے۔لان الضمان ضمان العقود ولیس الضمان ضمان الحقوق کما فصلہ فی ردالمحتار(کیونکہ یہ ضمان عقود والا ہے حقوق والا ضمان نہیں جیساکہ ردالمحتار میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ت)والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۸۷:           مسئولہ نواب نثار احمدخاں صاحب بازار صندل خاں بریلی              بروز یکشنبہ ۹ شوال ۱۳۳۴ھ

امام مسجد سابق جو بغداد شریف وغیرہ کہہ کر باہر شہر کے گیا ہو تو اس کے اسباب کوحجرہ مسجد سے بلااجازت لے کر جس کو چاہے اور اپنے صرف میں لائے بلارائے اہل محلہ کے،پس صرف کرنیوالے پر کیاحکم شرع ہے۔فقط

الجواب:

اسباب اگر اس کی ملك ہے تو اس میں یہ تصرفات حرام ہیں اگر چہ اہل محلہ کی رائے سے ہوں،اور اگر مسجد کا مال ہے کہ امام کے صرف میں رہتا تھا تو جس لئے وقف تھا اسی میں صرف ہوسکتاہے اپنے صرف میں لانا یاجسے چاہے دے دینا اب بھی حرام ہے۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۸۸ تا ۲۹۲:                از علی گڑھ محلہ بالائے قلعہ مسئولہ محمد عبدالمجید معرفت عبدالرحیم وکیل یکشنبہ ۲۶ شوال ۱۳۳۴ھ

(۱)کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك قوم کو ضرورتا قومی چندہ یومیہ جمع کرکے ایك چاہ بنانے کا شوق ہوا اور کل قوم نے یومیہ چندہ متفق ہو کر جمع کرنا شروع کیا،اس چندہ میں امیر وغریب سب شریك تھے،تقریبا دو سوروپیہ ہوجانے پر قوم نے ایك برادری کے شخص کو معتبر سمجھ کر وہ رقم

عــــــہ: اصل میں ایسے ہی ہے لیکن شاید یہ عبارت اس طرح ہو"اسے اس کے روپے ہی لینے ہوں گے"عبدالمنان اعظمی۔


 

 



Total Pages: 692

Go To