Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

(۲)یہ فعل بھی ظالم اور ظلم کی جزا نار۔

(۳)شرعا زید عــــــہ کا اس میں کچھ حق نہیں اوریہ فعل ضرور ظلم وفسق ہے۔والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۸۴:            از پیلی بھیت محلہ شیر محمد نمبر مکان ۱۵۴،مسئولہ حبیب احمد          بروز یکشنبہ ۸ ۱ صفر المظفر ۱۳۳۴ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص بقال کے یہاں ملازم ہے۔اورپوری تنخواہ نہ دے،تو وہ اس سے چھپا کر اس کے مال سے یعنی جو اس کے یعنی بقال کا تعلق ہو خود لے لے یعنی بنیے بقال اہل ہنود کا مال چھپا کر مسلمان ملازم کوکھانا رواہے یانہیں؟

الجواب:

تنخواہ پوری نہ دینے کے دو معنی ہیں:ایك یہ کہ جس قدر قرارپائی ہے اس سے کم دیتاہے۔اس صورت میں جتنی کم رہتی ہے اتنی مقدار تك اس کے مال سے بے اس کی اجازت کے لے سکتاہے۔مثلا دس روپیہ تنخواہ ٹھہرے ہیں اور اس نے کسی مہینے میں ظلما پانچ روپے کاٹ لئے تویہ پانچ روپےکی قدر اس کے مال سے لے سکتاہے کہ یہ اس کا حق ہے۔

دوسرے یہ کہ تنخواہ جتنی ہونی چاہئے تھی اتنی نہیں دیتا۔مثلا وہ کام دس روپے ماہواری کے قابل تھا،او ر اس نے اسے حاجتمند پاکر وباکر پانچ روپے ماہوار نوکر رکھا اور اس نے قبول کرلیا تو اب نہیں لے سکتا کہ اتنے سے زیادہ میں اس کا حق نہیں،اور مال جو اس کی سپردگی میں ہے امانت ہے اور بذریعہ عقدا جارہ اِس کا اُس کا معاہدہ ہوچکاہے اور امانت میں خیانت اور معاہدہ میں غدرکسی کے ساتھ جائز نہیں۔

قال اﷲ تعالٰی " یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَوْفُوۡا بِالْعُقُوۡدِ ۬ؕ "[1]۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔

الله تعالٰی نے فرمایا:اے ایمان والو! عقود کو پورا کرو۔(ت) والله تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۲۸۵ و ۲۸۶:                از مقام چتوڑ گڑھ علاقہ اودے پور راجپوتانہ مسئولہ عبدالکریم بروز شنبہ ۱۶ ربیع الاول شریف ۱۳۲۴ھ

(۱)شیئ مشترکہ کو کہ ہر ایك شریك استعمال کرتا ہے تو بروقت ٹوٹنے یاضائع ہونے کے اس شیئ کا تاوان کس پر ہوگا؟

عــــــہ: اصل میں یونہی ہے۔سوال کی روشنی میں"زید"کے بجائے"ان کا"ہونا چاہئے۔


 

 



[1] القرآن الکریم ۵/ ۱



Total Pages: 692

Go To