Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

 

 

کتاب الغصب

(غصب کا بیان)

 

مسئلہ ۲۵۵:            یکم ذیقعدہ ۱۳۰۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید غنی نے اپنے جوان پسر کی آمدنی یہ کہہ کر لینی شروع کی کہ ہم جمع رکھیں گے تاکہ تمھاری شادی پر خرچ کریں،او ر واقع مٰیں اس کے خلاف کیا۔بلکہ وہ مال اپنے مصارف میں اٹھالیا،تو اس صور ت میں زید پر اس کا تاوان آئے گا۔یا مال پسر کامالك سمجھا جائے گا بینوا توجروا

الجواب:

بیشك تاوان دے گا اور ہر گز رضائے پسر نہ تھی تو گناہ علاوہ،

قال تعالٰی " لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمْوٰلَکُمْ بَیۡنَکُمْ بِالْبٰطِلِ "[1]۔

الله تعالٰی نے فرمایا:آپس کامال باطل طریقہ سے نہ کھاؤ۔ (ت)

باپ بیٹے کے مال کا اس کی زندگی میں ہر گز مالك نہیں۔

وقولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انت و

اور حضور صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے کا ارشاد ہے کہ تو اور

 


 

 



[1] القرآن الکریم ۲/ ۱۸۸



Total Pages: 692

Go To