Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

 

 

کتاب الحجر

(حجر کا بیان)

 

مسئلہ۲۳۲:                             از مارہرہ مطہرہ مرسلہ مولٰنا مولوی محب احمد صاحب                     ۱۷ جمادی الآخرہ ۱۳۱۴ھ

ایك عورت عرصہ چالیس سال سے اس مرض میں مبتلا ہے کہ کبھی کبھی اس کی عقل میں اختلال آجاتاہے اور خیال پردہ وستر پوشی کانہیں رہتا حتی کہ مکان کی چھت سے جو بازار میں واقع ہے سربازار کھڑی ہوجاتی ہے۔ایك مرتبہ چھت سے نیچے گر پڑی اور اکثر ی حالت یہ ہے کہ ہر قسم کا خیال سترپوشی وحجاب رہتاہے۔سب قرابت دار ان مادری وپدری وصہری کو بتخصیص قرابت جانتی پہچانتی ہے کام متعلق عورات جوخانہ داری کو چاہئیں کرتی ہے۔ایسی حالت میں اس کا اپنی جائداد کسی کو بطور ہبہ دے دینا یا معاف کرنا یاکسی بارہ میں اس کی شہادت مثل رضاعت وغیرہ مقبول وجائز ہے یانہیں؟ اور یہ عورت مجنونہ ومعتوہہ ہے یا کیا۔ بینوا توجروا

الجواب:

ایام دورہ میں زن مذکورہ کا آفت معترضہ علی العقل میں مبتلا ہونا واضح وبدیہی ہے قلت فہم وفساد تدبیر توظاہر،اور اختلاط کلام اختلاط عقل کو لازم،تو اسی قدر سے معتوہہ ہونا تو صراحۃً ثابت،اور اس کے ساتھ لوگوں کو مارناگالیاں دینا بھی ہو تو مجنونہ ہے۔ بہرحال تبرعات مثل ہبہ مال وبخشش مہر وغیرہ کی اہلیت ہر گز نہیں،اگر ایسے تصرفات کرے گی محض باطل ہوں گے، اور رضاعت وغیرہ


 

 



Total Pages: 692

Go To