Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

ردالمحتار میں ہے:

وبہ افتی الرملی وغیرہ ونظمہ فی فتاواہ بقولہ:

ومانع زوجتہ عن اھلہا

تہب المہریکون مکرھا

کذالك منع والدلبنتہ

خروجہا لبعلہا من بیتہ

ثم قال وانت تعلم ان البیع والشراء والاجارۃ کالاقرار والہبۃ وان کل من یقدر علی المنع من الاولیاء کالاب للعلۃ الشاملۃ فلیس قیدا [1]۔

خیرالدین رملی وغیرہ نے یہی فتوٰی دیا ہے اور انھوں نے اپنے فتوٰی میں اس کو نظم کے طور پر یوں ذکر کیا ہے:

(ترجمہ)"بیوی کو اپنے والدین سے روکا کہ مہر ہبہ کرے تویہ مکرہ ہوگا یونہی والد نے بیٹی کو اپنے خاوند کے پاس جانے سے روکا"

پھر فرمایا کہ آپ کو معلوم ہے کہ بیع وشراء اور اجارہ۔اقرار اور ہبہ کی طرح ہیں او ربیشك باپ جیسا کوئی ولی جو کسی عام وجہ سے روکنے پر قادرہو وہ قید نہیں ہے۔(ت)

خیریہ میں ہے:

قال علماء نا منع الزوج زوجتہ من اہلہا حتی تہب لہ المہرتکون مکرھۃ والہبۃ باطلۃ قال فی مجمع الفتاوی و فی ملتقط السید الامام عن الفقیہ ابی جعفر من منع امرأتہ عن المسیرالی ابویہا الا ان تہب مہرھا فوھبت فالہبۃ باطلۃ ومثل ذٰلك فی الخلاصۃ والبزازیۃ وکذٰلك ذکر فی التاتارخانیۃ نقلا عن الینا بیع [2]۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

ہمارے علماء نے فرمایا ہے کہ بیوی کو اپنے والدین سے منع کرنا تاکہ مہر ہبہ کرنے پر آمادہ ہو تو یہ مجبوری ہوگی اور بیوی نے ہبہ کردیا تو باطل ہوگا،اور مجمع الفتاوٰی میں ہے کہ سید امام کی ملتقط میں فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ جس نے مہر ہبہ کئے بغیر بیوی کو اس کے والدین سے روك رکھا ہو اور اس نے ہبہ کردیا تو یہ ہبہ باطل ہوگا،اور اسی طرح خلاصہ اور بزازیہ میں ہے اور یونہی تاتارخانیہ میں ینا بیع سے نقل کیا ہے۔والله تعالٰی اعلم۔(ت)

 


 

 



[1] ردالمحتار کتاب الاکراہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۸۸

[2] فتاوی خیریہ کتاب الاکراہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۴۴



Total Pages: 692

Go To