Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

 

 

اجودالقرٰی لطالب الصحۃ فی اجارۃ القرٰی۱۳۰۲ھ

(دیہات کے ٹھیکہ کی صحت کے طلبگار کے لئے بہترین مہمانی)

 

مسئلہ ۲۲۰(ب):                   از بدایون                   ۷ جمادی الاولٰی ۱۳۰۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ ٹھیکہ دیہات کا جو فی زماننا شائع وذائع ہے،جس کا حاصل یہ ہوتاہے کہ زمین تو مزارعین کے اجارہ میں بدستور ہے،اور توفیر مستاجر کو ٹھیکہ میں دے دی گئی کہ اس قدر توفیر کا گاؤں اتنے میں ٹھیکہ دیا،بحساب اقساط اس قدر بلاعذر کمی وصول وغیرہ ادا کرو،پھر اگر ٹھیکہ دارنے رقم معین سے کسی قدر اگرچہ ایك پیسہ ہو،یا ہزار روپیہ زائد وصول پایا وہ اس کا حق سمجھا جاتاہے اور وصول میں کمی رہے تو اس مقدار کا اپنے گھر سے پورا کرنا پڑتاہے۔یہ طریقہ شرعاجائز ہے یا نہیں؟ اور برتقدیر بیشی مستاجر کہ قدر زائد اور درصورت کمی مؤجر کو مقدار باقی لینا حلال ہے یا نہیں؟ اوراگر اسے ناجائز کہا جائے تو کیا فرق ہے کہ مزارعین کو زمین ٹھیکہ پر دینا جائز ہے۔اور یہ


 

 



Total Pages: 692

Go To