Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

الجواب:

کام کی تین حالتیں ہیں:سست،معتدل،نہایت تیز،اگر مزدوری میں سستی کے ساتھ کام کرتاہے گنہگار ہے اور اس پر پوری مزدوری لینا حرام،اتنے کام کے لائق جتنی اجرت ہے لے،اس سے جو کچھ زیادہ ملا مستاجر کو واپس دے وہ نہ رہا ہو اس کے وارثوں کود ے،ان کا بھی پتہ نہ چلے تو مسلمان محتاج پر تصدق کرے اپنے صرف میں لانا یا غیر صدقہ میں اسے صرف کرنا حرام ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں بھی کاہلی سے سستی کرتاہو،اور اگر مزدوری میں متعدل کام کرتاہے مزدوری حلال ہے اگرچہ ٹھیکے کے کام میں حد سے زیادہ مشقت اٹھاکر زیادہ کام کرتاہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۴۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك تاجر ایك اجیر پیشہ ور کو معتبر ومتدین سمجھ کر سالہا سال اُجر ت پر کام بنانے کے لئے دیا وہ کاریگر ہمیشہ بہ دیانت تمام کام بنایا کیا،کبھی اس سے تقصیر واقع نہ ہوئی اب برسوں کے بعد ایك مال اس کی حفاظت سے گم ہوگیا،اس صورت میں اُس اجیر پر تاوان ڈالنا جائز ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

ناجائز ہے،

فی الوقایہ لایضمن ماھلك فی یدہ وان شرط علیہ الضمان وبہ یفتی [1]،وفی الاصلاح والتنویر[2]بلفظہ وفی النقایۃ کذٰلك الا قولہ وبہ یفتی[3] وفی الملتقی المتاع فی یدہ امانۃ لایضمن ان ھلك وان شرط ضمانہ

وقایہ میں ہے،اجیر کے قبضے سے گم شدہ چیز پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی لگائی ہو،اور اسی پر فتوٰی ہے اور اصلاح اور تنویر میں یہی الفاظ ہیں اور نقایہ میں یونہی ہے سوائے "بہ یفتی"کے۔اور ملتقٰی میں ہے اس کے قبضہ میں مال امانت ہے،ہلاك ہوجانے پر وہ ضامن نہ ہوگا اگرچہ ضمان کی شرط بھی ہو۔

 


 

 



[1] شرح الوقایہ کتاب الاجارۃ باب من الاجارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۳۰۶

[2] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الاجارۃ باب ضمان الاجیر مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۸۰

[3] مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایہ کتاب الاجارۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۱۳



Total Pages: 692

Go To