Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

نصف بہیل تمھارے ہاتھ فروخت کرتے ہیں تم اس کو(للعہ)پر خرید کرتے ہو سب نے بخوشی اپنے مطالبہ میں قبول کیا اور عمل بیع واقع ہوگیا،یہ کاشتکار رئیس کھیڑہ کی زمینداری میں آباد ہیں،ان سات کس مدعا علیہم کے ہمراہ ایك کارندہ یا تھنپت زمیندار اور ایك اس کا رفیق تھا،یہ صورت میں نے حضور میں اس بناء پر پیش کی کہ بجز اس کے کہ پٹواری مطیع اور نالشات دائر ہیں اور زیادہ دباؤ کی صورت نہیں،بیع خوشی سے عمل میں آئی کاشتکار سب کفار ہیں۔

الجواب:

بسم اﷲ الرحمن الرحیم،نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

جان برادر بلکہ از جان ہزار جابہتر مولوی محمدرضاخاں سلمہ الرحمن وحفظہ فی کل آن آمین! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،جبکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب تك زمیندار بے دخل نہ کرائےیا کاشتکار باضابطہ استعفا نہ دے زبانی استعفا کاشت چھوڑنا نہیں سمجھا جاتا یہاں تك کہ زمیندار مداخلت کرے تو اس پر مال وفوجداری دونوں میں دعوٰی ہوسکے،اور یہ قاعدہ خود ان کاشتکاروں کے علم میں بھی ہے اور باضابطہ استعفا نہ دیا تو ثابت ہوا کہ وہ اجارہ زمیں سے دستبردار نہ ہوئے،اگر ہونا چاہتے باضابطہ استعفا دیتے،پھر بھی اس میں شبہ رہتاکہ زبانی تو چھوڑ چکے تھے اگرچہ قانونا ان کا دعوٰی باقی رہتا مگر جب تم نے شروع سال میں یہ صاف کہہ دیا کہ لگان بہرحال دیناہوگا۔اورانھوں نے سکوت کیا اگرچہ کاشت بھی نہ کی،تو یہ دوبارہ قبول اجارہ ہوگا اور لگان ان پر لازم آئی،یہ روپیہ بحمداﷲ تمھیں بروجہ حلال ملا،اس کے بعد اس احتیاط کی حاجت بھی نہ تھی،اب کہ کرلی گئی وہ روپے اس بیع کے ہوگئے،لگان ان پر بدستور رہتا،مگر ظاہرا تم نے روپے لگان میں لے کر پھر ان کے ہاتھ میں دے کر بیع کی بہیلی لگان میں لے لینے سے لگان اداہوگیا،اور وہ بھی مطالبہ سے بری ہوگئے،بہرحال یہ روپیہ تمھارے لئے بفضلہٖ تعالٰی حلال طیب ہے،مولٰی عزوجل اپنے حبیب اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے صدقہ میں دین و دنیا میں تھمارا اقبال دن دونا رات سوایا کرتارہے۔ آمین!

مسئلہ ۱۴۴:                             از شہر کہنہ بریلی مسئولہ محمد ظہور صاحب                      ۱۰ شوال ۱۳۳۷ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مزدری کرتاہے،دن روز ہ کی مزدوری میں جب کام کرتاہے تو بدرجہ کمی اور ٹھیکہ میں جب کرتا ہے تو کوشش اس امر کی کرتاہے کہ زیادہ ہو ایسی صورت میں اس کی روزی کیسی ہوئی؟


 

 



Total Pages: 692

Go To