Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

 

 

کتابُ الاجارۃ

(اجارہ کا بیان)

 

مسئلہ ۱۴۳:                             ا ز کرتولی مرسلہ حضرت مولوی رضاخاں صاحب          یکم جمادی الاولٰی ۱۳۳۸ھ

بحضور میاں بھائی دام ظلھم العالی بجاہ النبی الکریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم آمین الٰہی آمین!

صورت مسئولہ یہ ہے کہ بیع     ۲۵؁ ف میں بعداختتام کار ربیع فصل سے خالی زمین کرکے چند کا شتکار ان مرزاپور ساکن ضلع سلن نگر نے زبانی استعفا دیا جس میں سے ایك شخص نے مجھ سے خود کہا کہ میں نہیں کروں گا بجواب اس کے میں نے کہاکہ توہم سے ناتہ توڑ رہا ہے دو روپیہ فارغخطا نہ کے دے دے،اس نے وہ بھی دے دئے،قاعدہ یہ ہے کہ تاوقتیکہ زمیندار کا شتکار کو بے دخل نہ کرائے یا وہ استعفا باضابطہ مقررہ نہ دے اس وقت تك نام کاشتکار خارج نہیں ہوسکتا،اور کاشتکار بلااخراج نام بصورت مداخلت زمیندار اگر چاہے تو دعوی مال اور فوجداری میں کرسکتا ہے      ۲۶؁ ف کے شروع میں سب کو دوبارہ اطلاع دی گئی کہ چاہے زمین کرو یا پڑی رکھو لگان دینا ہوگا۔اس پر بھی انھوں نے زمین کاشت کرنے کااقرار کیا،نہ کاشت کی،     ۲۶؁ خریف موجود    ۲۷؁ کی نالش کردی گئی آج ن مقدمات کی تاریخ ہے کل حضو رکے اقبال سے چار قطعہ نالشات(ما لعہ عہ/) روپیہ ملازم کو دئے گئے اور(لہ /)انشا ء اﷲ العزیز انھیں دو چار یوم میں اور ملیں گے،یہ روپیہ مجھ کو جائز ہے یانہیں،بنظر احتیاط ناکارہ غلام دو عدد بہیلیاں قیمت(۱۴ /)کو ہرشخص کو اس کا روپیہ اس کے ہاتھ میں دے کر اور یہ کہہ کر ہم اپنا معاملہ پاك کرنا چاہتے ہیں


 

 



Total Pages: 692

Go To