Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

کان عالما متاد باولایعطی منہم من کان فاسقا فاجرا و لوکان ولدھا فاسقا فاراد صرف مالہ فی الخیر فحرمانہ ھذا خیر من ترکہ لانہ فیہ اعانۃ علی المعصیۃ۔

عالم اور تربیت والا ہو اس کو دے اور جو فاسق فاجر ہو اس کو نہ دے،اور اگر بیٹا فاسق ہو اورچاہے کہ تمام مال خیر میں صرف کردے تو اس طرح فاسق کو محروم کرنا بہتر ہے کیونکہ ترکہ چھوڑنے میں معصیت میں اعانت ہوگی۔(ت)

۲۰غنیہ ص ۵۱۴ میں ہے:

المبتدع فاسق من حیث الاعتقاد وھو اشد من الفسق من حیث العمل [1]۔

بدعقیدہ شخص اعتقادی فاسق ہے اور یہ عمل فسق سے زیادہ شدید ہے۔(ت)

۲۱تنویر الابصار جلد ۴ ص ۲۴۵ میں ہے:

الدعوی ھی قول مقبول یقصد بہ طلب حق قبل غیرہ اودفعہ عن حق نفسہ [2]۔

دعوٰی،ایسا مقبول قول ہے جس کے ذریعہ غیر سے اپنا حق طلب کیا جائے یا اپنے حق کا دفاع کیا جائے۔(ت)

۲۱تنویر الابصار ج۴ ص ۴۵۹:

القضاء ھوفصل الخصومات وقطع المنازعات [3]۔

قضاء،منازعات کا فیصلہ اور جھگڑوں کو ختم کرنے کا نام ہے۔ (ت)

۲۲درمختار ج ۴ ص ۵۰۲ و ۵۰۳ تحت قول الماتن اذا رفع الیہ حکم قاض نفذہ(جب اس کو قاضی کا فیصلہ مل جائے تو نافذ کرے۔ت)فرمایا:

بعد دعوی صحیحۃ من خصم علی خصم حاضر وال اکان افتاء [4]۔

ایك فریق کا صحیح دعوٰی مخالف حاضر فریق پر ہو ورنہ وہ فتوٰی ہوگا۔(ت)

۲۳ردالمحتارمیں ہے:


 

 



[1] غنیہ المستملی شرح منیہ المصلی فصل فی الامامۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۵۱۴

[2] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب الدعوٰی مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۱۴

[3] درمختار شرح تنویر الابصار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۱

[4] درمختار شرح تنویر الابصار فصل فی الحبس مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۷۸



Total Pages: 692

Go To