Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

 

فتح الملیك فی حکم التملیك ۱۳۰۸ھ

(بادشاہ کا اظہار تملیك کے حکم میں)

 

مسئلہ ۷۵: نزدیك علمائے حَنفیہ ایدھم اﷲ تعالٰی کے ہبہ وتملیك میں کیا فرق ہے اور جو احکام ہبہ مشاع اور ہبہ مرض الموت اور ہبہ غیر مقبوض کے ہیں وہی بحالت ہائے مذکورہ تملیك سے بھی متعلق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر پائیے۔ت)

الجواب:

اصل وضع میں تملیك ہبہ سے عام ہے کہ وہ تملیك اعیان ومنافع وبعوض وبے عوض ومنجز و مضاف للموت سب کو شامل ہے جس کی رو سے بیع وہبہ واجارہ واعارہ ووصایا سب اس کے تحت میں داخل ہیں اورہبہ خاص تملیك عین بلاعوض کانام ہے۔

فی الدرالمختار الھبۃ تملیك العین مجانا[1] اھ ملخصا۔

درمختار میں ہے ہبہ مفت میں کسی چیز کا مالك بنانا ہے اھ ملخصًا۔ (ت)

مگر عرف میں ان لفظوں سے کہ میں نے ایك شے کا تجھے مالك کیا،یا اس چیز کے تجھے تملیك کی ظاہرًاہبہ


 

 



[1] درمختار کتاب الھبۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۵۸



Total Pages: 692

Go To