Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

 

 

کتاب الھبۃ

(ہبہ کا بیان)

 

مسئلہ ۴۶:                               از ریاست رامپور محلہ موتی خان مرسلہ طوطا رام                           ۲۷ شوال ۱۳۳۶ھ

زید نے اپنی کل جائداد مملوکہ مقبوضہ اپنے بھتیجے کے نام تملیك کراکر اس کو مالك وقابض کرایہ اور دستاویز میں لکھ دیا کہ جائداد تملیك شدہ کو میں نے اپنی ملکیت سے خارج کردیا اور مجھے میرے کسی وارث کو اس میں دعوٰی نہ رہا،جس وقت زید نے یہ دستاویز لکھی تھی اس وقت سے اس کے مرنے کے وقت تك زید کی کوئی اولاد نہ ذکور یا اناث موجود نہ تھی بس چار بھتیجے اور ایك نواسہ تھا اب بعد وفات زید نواسہ دعوٰی کرتاہے کہ دستاویز تملیك نامہ کے ذریعہ سے جو جائداد زید نے ایك بھتیجےکے نام منتقل کی تھی وہ قابل جواز ونفاذ کے نہیں اور وہ جائداد مندجہ دستاویز تملیك نامہ ملکیت زید قرار دی جائے اور متروکہ قائم ہوکر اس میں وراثت جاری کی جائے۔دوسرا فریق کہتاہےکہ جب زید اپنی زندگی میں اس کو بذریعہ دستاویز تملیك منتقل کرگیا اور لکھ گیا کہ اس میں میری ملکیت باقی نہیں رہی تو وہ زید کی ملکیت قرار پاکر اس کا متروکہ قائم نہیں ہوگا نہ اس میں وراثت جاری ہوگی،شریعت اسلام کے بموجب ایسی صورت میں کیا ہوگا؟ بینوا توجروا

الجواب:

تملیك عین بلاوعوض ہبہ ہے اور ہبہ بعد قبضہ تام پھر بعدموت احدالعاقدین مطلقا لازم اگرچہ


 

 



Total Pages: 692

Go To