Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

الاخراج وعمم فی الباقی الفساد،ثم رأیت التصریح بہ فی الہندیۃ عن الظہیریۃ حیث قال ان کان فی الترکۃ دین علی الناس فصولحت(یعنی المرأۃ)علی الکل علی ان یکون نصیبہا من الدین للورثۃ او صولحت عن الترکۃ ولم ینطقوا بشیئ اٰخر کان الصلح باطلا اھ [1]،واما ثانیا: فلان نصیب عبداﷲ من نقود الترکۃ اکثر مما صالح علیہ وذٰلك لان حصتہ من الف و اربعمائۃ مثلا وھی سبعا لباقی بعد اخراج الفرضین مائۃ وخمسون درھما وانما اعطی مائۃ فکان البقیۃ شروا مائۃ وخمسین درھما وزیادۃ بمائۃ درھم وھذا ھوالربا المحرم قال فی الدرالمختار اخرجت الورثۃ احد ہم عن نقدین وغیرہما باحدا النقدین لایصح الا ان یکون مااعطی لہ اکثر من حصتہ من ذٰلك الجنس تحرز عن الربا [2] اھ ملخصا،و ھذ اظاھر اذا لم یکن للازواج مہر علی المورث فان

قرض کے خارج ہونے پر معلق فرمایا اور باقی تمام صورتوں کو فساد میں شامل فرمایا۔پھر میں نے ظہریہ کے حوالہ سے ہندیہ میں اس پر تصریح دیکھی جہاں انہوں نے فرمایا کہ اگر ترکہ میں لوگوں پرقرض بھی شامل ہے اور بیوی سے یہ صلح ہوئی کہ باقی تمام ترکہ حتی کہ قرض میں بیوی کا حصہ یہ سب ورثاء کا ہوگا یا ورثاء نے بیوی کی باقی تمام ترکہ سے لاتعلقی پر صلح اور اس سے زائد کوئی وضاحت نہ کی تو صلح باطل ہوگی اھ لیکن ثانیًا: اس لئے کہ عبدالله کا نقد ترکہ میں صلح کی مقدار کے مقابلہ میں حصہ زیادہ بنتاہے یہ اس لئے کہ مثلا چودہ سو نقدمیں سے بیوی اور بیٹی کے دو فرض(حصے)نکالنے کے بعد عبدالله کلا حصہ دو ساتے جو کہ ڈیڑھ سو درہم ہیں جبکہ عبدالله کو صرف ایك سودیا گیا تو باقی ورثاء نے گویا ڈیڑھ سو اور کچھ زائد کو ایك سو درہم کے بدلہ میں خریدا اوریہ حرام و سود ہے۔ درمختارمیں فرمایا کہ ورثاء نے ایك وارث کو سونا و چاندی (نقدین)اور دیگر ترکہ سے سونا یا چاندی میں سے ایك پر صلح کرکے خارج کیا تو یہ صلح صحیح نہ ہوگی مگر اس صورت میں جبکہ جس نقد پر صلح کی ہو اس میں اس کے حصہ سے زائد اس کو دیا گیا ہوتاکہ ربا سے بچاؤ ہوسکے اھ ملخصا۔یہ بیان اس صورت میں ظاہر ہے کہ جب مورث کے ذمہ

 


 

 



[1] فتاوٰی ہندیۃ کتاب الصلح الباب الخامس عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۲۶۹

[2] درمختار کتاب الصلح فصل فی التخارج مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۱۴۵



Total Pages: 692

Go To