Book Name:Fatawa Razawiyya jild 19

 

 

 

 

 

 

کتاب الصلحِ
(صلح کا بیان)

 

مسئلہ ۱۵:                 ۱۸ جمادی الآخرہ ۱۳۰۵ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کلو نے دو زوجہ رینا ومنی اور بطن منی سے دختر صغرٰی اور دو بھائی چھٹن،عبداللہ۔ اور تین بہنیں چھوٹی،ملوکی،سینا۔اور چودہ سو روپے نقد اور کچھ غلہ اور پونے دو سو روپے ایك شخص پر قرض چھوڑ کر انتقال کیا،عبدالله نے مال متروکہ میں سے سو روپے نقد لے کر باقی وارثوں سے فیصلہ کرلیا کہ اب مجھے ترکہ سے کچھ تعلق نہیں۔ پھر ملوکی نے دو پسرامام بخش ویار محمد اور دو دختر کہ ان کانام بھی رینا ومنٰی ہے چھوڑ کر وفات پائی،اس صورت میں ترکہ کلو کا کس طرح منقسم ہوگا،اور کلو نے اپنا ایك بھتیجا بیٹا کرکے پالا تھا وہ بھی وارث ہوگا یانہیں۔بینوا توجروا(بیان کیجئے اجر دئے جاؤ گے۔ت)

الجواب:

صورت مستفسرہ میں وہ فیصلہ کہ عبدالله نے کیا دو وجہ سے باطل ہے،

اما اولا فلمکان الدین فی الترکۃ وقد صالح علی ان لا یکون لہ حق فی شیئ مما بقی فینتظم العین و الدین جمیعا والصلح عن دین

لیکن اولًا اس لئے کہ ترکہ میں قرض ہے اور اس نے صلح باقی تمام ترکہ سے لاتعلق پر کی ہے تویہ موجود مال اور قرض دونوں کو شامل ہے جبکہ قرض پر قرضخواہ اور مقروض کے بغیر ہر ایك کی صلح

 


 

 



Total Pages: 692

Go To