Book Name:Fatawa Razawiyya jild 18

 

 

بسم اﷲ  الرحمٰن الرحیم

 

 

 

کتاب الشھادۃ

(گواہی کا بیان)

مسئلہ۱:                    از دولت پور ضلع بلند شہر مرسلہ رئیس بشیر محمد خان صاحب                           ۵شعبان ۱۳۲۹ھ

ازروئے شرع شریف کے شاہد کی کیا تعریف ہے اور کون سی شہادت شرع شریف میں مانی جاتی ہے بتفصیل ارقام فرمائیں۔

الجواب:

شاہد وہ جو مجلس قضا میں بلفظ اشھد یا گواہی میدہم (میں گواہی دیتا ہوں۔ت) یا گواہی دیتا ہوں کسی حق کے ثابت کرنے کی خبر دے، اور قبول شہادت کےلئے شاہد کا عاقل،بالغ صحیح یاد والا، انکھیارا اور مدعا علیہ پر اپنی گواہی سے الزام قائم کرنے کی لیاقت والا ہونا لازم ہے، اور یہ کہ اسی شہادت میں بوجہ قرابت ولادت یا زوجیت یا عداوت وغیرہا اس پر تہمت نہ ہو، اورفاسق کی گواہی بھی مردود ہے اور قبول کرنے والا گنہگار، اورتفصیل تام کتب فقہ میں ہے، درمختار میں ہے:

اخبار صدق لاثبات حق بلفظ الشہادۃ فی مجلس القاضی شرطھا العقل الکامل والضبط والولایۃ فیشترط

کسی حق کو ثابت کرنے کےلئے مجلس قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینا(شہادت شرعی ہے) شہادت کی شرطیں یہ ہیں شاہد کا عاقل، بالغ صحیح یا دداشت والا اور مدعا علیہ پر ولایت رکھنے والا

 


 

 



Total Pages: 738

Go To