Book Name:Fatawa Razawiyya jild 18

فرض المسئلۃ ان المرتہن لم یذکر القبض فی دعواہ وایضا فان الصحۃ الدعوی شرط صحۃ الشھادۃ اھ [1] ملخصًا۔

اس لئے کہ صورت مسئلہ یہ ہے کہ مرتہن نے اپنے دعوٰی میں قبضہ کو ذکر نہ کیا ہو اور نیز اس لئے کہ دعوٰی کا صحیح ہونا شہادت کی صحت کےلئے شرط ہے اھ ملخصا۔(ت)

اور اگر دعوٰی میں قبضہ پالینے کا ذکر تو کیا مگر حصول قبض یا لطافت حسین کے اقرارمذکور پر گواہ نہ دے سکے تو بھی اس کا استحقاق مرتہنانہ نہ ثابت ہوگا اور اب مکان کا خالی نہ کیا جانا بیشك اس کے دعوٰی رہن پر ضرر کا اثر ڈالے گا کہ رہن بے قبضہ تمام نہیں ہوتا۔ ردالمحتار میں عنایہ سے ہے:القبض شرط تمام العقد[2] (رہن میں قبضہ عقد کے تمام ہونے کے لئے شرط ہے۔ت) تو قبل قبضہ مرتہن کا حق مرہون میں حاصل نہ ہوا۔عالمگیریہ میں ہے:

مالم یقبضہ المرتہن لایثبت حکم ید الرھن لہ [3]۔

جب تك مرتہن اس پر قبضہ نہ کر لے اس وقت تك رہن کو اس کا مقبوض نہیں قرار دیا جاسکتا(ت)

ولہذا راہن کو قبل تسلیم اختیار رہتا ہے کہ رہن سے رجوع کرجائے اور مرتہن کو مرہون پر قبضہ نہ دے۔درمختار میں ہے:

ینعقد بایجاب و قبول حال کونہ غیر لازم فللراھن تسلیمہ والرجوع عنہ کما فی الھبۃ [4]۔

رہن کا انعقاد ایجاب و قبول سے ہوتا ہے جب کہ وہ ابھی غیر لازم ہوتا ہے تو راہن کو ابھی حق ہے کہ وہ مرتہن کو سونپ دے یا رجوع کرلے جیسا کہ ہبہ کا حکم ہے۔(ت)

اور صرف دستاویز میں لطافت حسین کا اقرار مزبور لکھا ہونا ثبوت کےلئے کافی نہ ہوگا جب تك اس اقرار پر گواہان شرعی نہ پیش کرے۔فتاوٰی خیریہ میں ہے:

سئل فی رجل مات مدیونا لغرماء

ایك ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جومقروض

 


 

 



[1] العقود الدریۃ کتاب الرہن ارگ بازار قندھار افغانستان ۲/ ۲۵۹

[2] ردالمحتار بحوالہ العنایۃ کتاب الرہن باب مایجوز ارتہانہ الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۳۱۵

[3] فتاوٰی ہندیہ کتاب الرہن الباب الثانی عشر نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۴۹۲

[4] درمختار کتاب الرہن مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۶۵



Total Pages: 738

Go To