Book Name:Fatawa Razawiyya jild 18

 

 

 

 

 

کتاب القضاء و الدعاوی

(قضاء اور دعوٰی کا بیان)

 

مسئلہ۲۴:                                                ازرام پور                                   ۱۳/ربیع الاول شریف۱۳۰۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ لاولد فوت ہوئی،بعد وفات ہندہ کے زید اجنبی اپنے آپ کو شوہر ہندہ ظاہر کرتاہے اور ثبوت دعوٰی میں دو مرد اور دو عورتیں پیش کرتا ہے،مردوں کا یہ بیان ہے کہ ہندہ نے جو ہم سے پردہ کرتی تھی پردے کے اندر سے نکاح خواہ کو جو باہر بیٹھا تھا اجازت دی کہ میرا نکاح زید کے ساتھ پڑھادو،مسماۃ مکان کے اندر اور ہم سب لوگ صحن میں باہر بیٹھے تھے،عورتوں کا بیان ہے کہ ہم مسماۃ ہندہ کے قریب بیٹھے تھے مسماۃمتوفیہ نے نکاح کا خود اقرار کیا تھا،اس صورت میں دعوٰی زید کا ثابت ہوا یانہیں ؟بینواتوجروا۔

الجواب:

اگر گواہان مذکور کا بیان صرف اسی قدر ہے جو سائل نے تحریر کیا تو وہ شہادتیں محض ناکافی و بیکار ہیں قطع نظر بہت وجوہ خلل ونقصان کے دونوں مردوں کی گواہی اثبات زوجیت سے متعلق ہی نہیں،نہ وہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے سامنے نکاح ہوا نہ یہی بیان کرتے ہیں کہ وہ اس کی زوجہ تھی بلکہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ ہندہ نے فلاں کو اپنے نکاح کا وکیل کیا اس سے اگر ثابت ہوگی تو اس کی وکالت،اور وکالت مستلزم وقوع تزویج نہیں کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)تو دعوائے مدعی وبیان گواہان اصلًا مطابق


 

 



Total Pages: 738

Go To