Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

الاشباہ والنظائر،قنیہ اور بغیہ میں ہے کہ محتاج کےلئے سود پر قرض لینا جائز ہے اھ غمز میں فرمایا اس کی صورت یہ ہے کہ مثلًا وہ دس دینار قرض لے اور قرض دہندہ کے لئے یومیہ کچھ نفع مقرر کرے اھ(ت)

اقول:محتاج کے یہ معنی جو واقعی حقیقی ضرورت قابل قبول شرع رکھتا ہو کہ نہ اس کے بغیر چارہ ہو نہ کسی طرح بے سودی روپیہ ملنے کا یارا ورنہ ہر گز جائز نہ ہوگا جیسے لوگوں میں رائج ہے کہ اولاد کی شادی کرنی چاہی سوروپے پاس ہیں ہزار روپے لگانے کو جی چاہا نوسو سودی نکلوائے یا مکان رہنے کو موجود ہے دل پکے محل کو ہوا سودی قرض لے کر بنایا یا سودوسو کی تجارت کرتے ہیں قوت اہل وعیال بقدر کفایت ملتا ہے نفس نے بڑا سودا گر بننا چاہا پانچ چھ سوسودی نکلوا کر لگا دئے یا گھر میں زیور وغیرہ موجود ہے جسے بیچ کر روپیہ حاصل کرسکتے ہیں نہ بیچا بلکہ سودی قرض لیا وعلی ہذا القیاس صدہا صورتیں ہیں کہ یہ ضرورتیں نہیں تو ان میں حکم جواز نہیں ہوسکتا اگرچہ لوگ اپنے زعم میں ضرورت سمجھیں

 

ولہٰذا قوت اہل وعیال کے لئے سودی قرض لینے کی اجازت اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے بغیر کوئی طریقہ بسر اوقات کا نہ ہو،نہ کوئی پیشہ جانتا ہو،نہ نوکری ملتی ہے جس کے ذریعہ سے دال روٹی اور موٹا کپڑا محتاج آدمی کی بسر کے لائق مل سکے ورنہ اس قدر پاسکتا ہے تو سودی روپے سے تجارت پھر وہی تونگری کی ہوس ہوگی نہ ضرورت قوت،رہا ادائے قرض کی نیت سے سودی قرض لینا،اگر جانتا ہے کہ اب ادا نہ ہوا تو قرضخواہ قید کرائے گا جس کے باعث بال بچوں کو نفقہ نہ پہنچ سکے گا اور ذلت وخواری علاوہ اور فی الحال اس کے سوا کوئی شکل ادا نہیں تو رخصت دی جائیگی کہ ضرورت متحقق ہولی حفظ نفس و تحصیل قوت کی ضرورت تو خود ظاہر،اور ذلت عــــــہ ومطعونی سے بچنا بھی ایساامر ہے جسے شرع نے بہت مہم سمجھا اور اس کےلئے بعض محظورات کو جائز فرمایا،مثلًا شریرشاعر جو امراء کے پاس قصائد مدح لکھ کر لیجاتے ہیں کہ خاطر خواہ انعام نہ پائیں تو ہجو سنائیں انہیں اگرچہ وہ انعام لیناحرام ہے اور جس چیز کا لینا جائز نہیں دینا بھی روا نہیں،پھر یہ لوگ کہ اپنی آبرو بچانے کو دیتے ہیں خاص رشوت دیتے ہیں اور رشوت صریح حرام،باینہمہ شرع نے حفظ آبرو کےلئے انہیں دینا دینے والے کے حق میں روافرمایا اگرچہ لینے والے کو بدستور حرام محض ہے،

فی الدرالمختار لاباس بالرشوۃ اذا خاف علی دینہ (عبارۃ المجتبی لمن یخاف)والنبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کان یعطی الشعراء ولمن یخاف لسانہ(فقد روی الخطابی فی الغریب عن عکرمۃ مرسلا قال اتی شاعر النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فقال یا بلال اقطع لسانہ عنی فاعطاہ اربعین درھما)ومن السحت مایاخذہ شاعر درمختار میں ہے کہ جب کسی کو اپنے دین کے بارے میں خوف ہو تو اس کے لئے رشوت دینے میں کوئی حرج نہیں (مجتبٰی کی عبارت میں ہے جسے خوف ہو)نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ شاعروں کو اور جن کی زبان درازی کاخوف ہوتا ان کو عطا فرماتے تھے(خطابی نے غریب میں حضرت عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مرسلًا روایت کیا عکرمہ نے کہا کہ ایك شاعر نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس آیا تو حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے فرمایا اے بلال! اس کی زبان مجھ سے قطع کرو۔چنانچہ حضرت بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس کو چالیس درہم

 

عــــــہ: ظاہر ہے کہ یہ ذلت پہنچے گی کہ مفلس کو مہلت دینی شرع نے واجب کی ۱۲منہ۔

 

لشعر(لانہ انما یدفع لہ عادۃ قطعا للسانہ فلو کان ممن یؤمن شرہ فالظاہر ان مایدفع لہ حلال بدلیل دفعہ علیہ السلام بردتہ للکعب لما امتدحہ بقصیدتہ المشھور ۃ تأمل[1] ) اھ ملخصا مختلطا بردا لمحتار۔

دے دئے)حالانکہ شاعر جو کچھ شعر کی وجہ سے لیتا ہے وہ حرام ہے(کیونکہ عادتًا جو کچھ اس کو دیا جاتا ہے وہ اس کی زبان درازی روکنے کے لئے ہوتا ہے چنانچہ اگر کوئی شاعر ایسا ہو جس کے شر سے امن ہو تو ظاہر یہ ہے کہ اس کو جو کچھ دیا جائے وہ حلال ہے اس پر دلیل حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی چادر مبارك عطا فرمانا ہے جب حضرت کعب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے آپ کی بارگاہ اقدس میں اپنا مشہور قصیدہ پیش کیا)اھ تلخیص باختلاط ردالمحتار(ت)

اور اگراس مفلس قرضدار کی قرضخواہ کی طرف اس قسم کے اندیشے نہیں بلکہ صرف حساب آخرت پاك کرنا چاہتا ہے تو ایسی حالت میں سودی قرض لینے کی اجازت مقاصد شرع سے سخت بعید ہے قرضدار جب مفلس ہو تو شرع قرضخواہ پر واجب کرتی ہے کہ انتظارکرے اور جب تك اسے استطاعت نہ ہو مہلت دے،

قال اللہ تعالٰی " وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ- "[2] ۔

اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا:اگر قرضدار تنگدست ہو تو ا س کی کشادگی اور آسانی مہیا ہونے تك مہلت دو۔(ت)

اور قرضدار کوحکم دیتی ہے کہ حتی الامکان ادا میں کوشش کرے اور ہر وقت سچے دل سے ادا کی نیت رکھے مفلسی کو پروانہ معافی نہ ٹھہرالے کہ اب ہم سے کوئی کیا لے گا،جب ایسی سچی نیت رکھے گا اور اپنی چلتی فکر ادا میں جو بروجہ شرعی ہوگئی نہ کرے گا تو اس سے زیادت شرع اسے تکلیف نہیں دیتی،

قال اللہ تعالٰی " لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ "[3]۔

 



[1]         درمختار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۲۵۳،ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ فصل فی البیع داراحیاء التراث العربی بیروت ۵/ ۲۷۲

[2]          القرآن الکریم ۲/ ۲۸۰

[3]          القرآن الکریم ۲/ ۲۸۶



Total Pages: 247

Go To