Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

حدیث(۱۵)سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :

الربا اثنان وسبعون حوبا اصغرھا حوبا کمن اتی امہ فی الاسلام ودرہم من الربا اشد من بضع وثلثین زنیۃ[1]۔رواہ ابن ابی الدنیا والبغوی وغیرہما وصدرہ عند عبدالرزاق بلفظ بضعۃ وسبعون[2]۔

سود بہتّر گناہ ہے سب سے چھوٹا بحالت اسلام اپنی ماں سے زنا کی طرح ہے اور سود کا ایك درہم کئی اوپر تیس زنا سے سخت تر ہے۔(اس کو ابن ابی الدنیا اور بغوی وغیرہ نے روایت کیا،اور امام عبدالرزاق کے ہاں لفظ بضع وسبعون کے ساتھ ہے۔ت)

حدیث(۱۶)سیدنا عبداللہ بن سلام فرماتے ہیں :

الربا ثلث وسبعون حوبا ادناھا حوبا کمن اتی امہ فی الاسلام ودرہم من الربا کبضع وثلثین زنیۃ[3]۔ سود میں تہتّر گناہ ہیں سب سے کم ایسا جیسے اسلام میں اپنی ماں سے جماع کرنا اور سود کا ایك درہم چند اور تیس زنا کی مانند ہے(اس کو

 

رواہ عبدالرزاق۔ امام عبدالرزاق نے روایت کیا۔ت)

حدیث(۱۷)کعب احبار فرماتے ہیں :

لان ازنی ثلثا وثلثین زنیۃ احب الی من ان اٰکل درھما ربا یعلم اللہ انی اکلتہ حین اکلتہ ربا[4]۔رواہ الامام احمد عنہ بسند جید۔

بیشك مجھے اپنا تینتیس بار زنا کرنا اس سے زیادہ پسند ہے کہ سود کا ایك درہم کھاؤں جسے اللہ عزوجل جانے کہ میں نے سود کھایا ہے۔(اس کو امام احمد نے سند جید کے ساتھ روایت کیا ہے۔ت)

والعیاذ باللہ تعالٰی،اللہ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت بخشے آمین۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۳۱: ۲۷ رجب روز دو شنبہ۱۳۰۶ھ

کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید مقروض ہے اور اس قدر محتاج ہے کہ قوت روز مرہ بھی بدشواری میسر آتا ہے چاہتا ہے کہ کچھ روپیہ سودی قرض لے کر کچھ روزگار کرے تا کہ صورت ادائے قرض کی ظہور میں آئے اور کچھ قوت بسری میں لائے،پس یہ امر مباح ہے یانہیں ؟ اور جو شخص ایسے اصل روپیہ کی ضمانت کرے گنہگار ہوگا یانہیں ؟بینواتوجروا۔

الجواب:

سود جس طرح لینا حرام ہے دینا بھی حرام ہے۔رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں:

لعن اللہ اٰکل الربو وموکلہ وکاتبہ و شاھدہ[5]۔رواہ احمد وابوداؤد

اللہ کی لعنت سود کھانے والے اور کھلانے والے اور اس کا کاغذ لکھنے والے اور اس کی گواہی

 

والترمذی وابن ماجۃ والطبرانی فی الکبیر وزادوھم یعلمون [6] کلھم عن ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ احمد والنسائی عن علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سند اھما صحیحان وبمعناہ عند مسلم فی صحیحہ وزادو ھم سواء [7]۔

کرنیوالے پر(اس کو امام احمد،ابوداؤد،ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا۔طبرانی نے معجم کبیر میں یہ زیادہ کیا کہ وہ جانتے ہوں کہ یہ سود ہے ان تمام ائمہ نے اس کو سید نا ابن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا،امام احمد اور نسائی کے نزدیك اس کی مثل سید نا حضرت علی المرتضٰی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے مروی ہے اور ان دونوں کی سندیں صحیح ہیں اس کے ہم معنی امام مسلم نے اپنی صحیح میں روایت کیا اور یہ اضافہ کیا کہ وہ سب برابر ہیں۔ت)

مگر شریعت مطہرہ کا قاعدہ مقرر ہے کہ الضرورات تبیح المحظورات(ضرورتیں ممنوعات کو مباح کردیتی ہیں۔ت)اسی لئے علماء فرماتے ہیں محتاج کو سودی قرض لینا جائز ہے،

فی الاشباہ والنطائر وفی القنیۃ والبغیۃ یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح[8] اھ قال فی الغمز و ذلك نحو ان یقترض عشرۃ دنانیر مثلا و یجعل لربھا شیئا معلوما فی کل یوم ربحا[9]اھ

 



[1]        الترغیب والترہیب بحوالہ ابن ابی الدنیا والبغوی حدیث۱۲ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۳ /۷،شرح السنۃ للبغوی باب وعید آکل الربا حدیث۲۰۵۴ المکتب الاسلامی بیروت ۸/۵۴

[2]        المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۶ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴

[3]        المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۴ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴

[4]        مسند امام احمد بن حنبل حدیث عبداﷲبن حنظلہ دارالفکربیروت ۵/ ۲۲۵

[5]        صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۲۷،سنن ابوداؤد کتاب البیوع آفتاب عالم پریس لاہور ۲ /۱۱۷)

(جامع الترمذی ابواب البیوع امین کمپنی دہلی ۱ /۱۴۵،سنن ابن ماجہ ابواب التجارات باب التغلیظ فی الربا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۶۶،مسند احمد بن حنبل عن ابن مسعود دارالفکر بیروت ۱/ ۳۹۳ و ۴۰۲ و ۴۰۹ و ۴۵۳،مسند احمد بن حنبل عن علی کرم اﷲ وجہہ دارالفکر بیروت ۱/ ۸۳ و ۱۰۷ و ۱۳۳ و ۱۵۰،سنن النسائی کتاب الزنیۃ نورمحمد کارخانہ کراچی ۲/ ۲۸۰

[6]        مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی فی الکبیر،باب ماجاء فی الرباء،دار الکتاب بیروت۴ /۱۱۸

[7]        صحیح مسلم کتاب المساقات باب الربا قدیمی کتب خانہ راچی ۲ /۲۷

[8]        الاشباہ والنظائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶

[9]        غمز عیون البصائر الفن الاول القاعدۃ الخامسۃ ادارۃ القرآن کراچی ۱/ ۱۲۶



Total Pages: 247

Go To