Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

ان الربا ابواب،الباب منہ عدل سبعین حوبا ادناہ فجرۃ کاضطجاع الرجل مع امۃ [1]۔رواہ ابن مندۃ وابونعیم عن الاسود بن وھب بن عبد مناف بن زہرۃ الزہری القرشی خال النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ورضی اللہ تعالٰی عنہ۔

بیشك ربا کے کئی دروازے ہیں ان میں سے ایك دروازہ برابر ستر گناہ کے ہے جن میں سب سے ہلکا گناہ ایسا ہے جیسے اپنی ماں کے ساتھ ہم بستر ہونا(اس کوابن مندہ اورابونعیم نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ماموں حضرت اسود بن وہب بن عبد مناف بن زہرہ الزہری القرشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا۔ت)

حدیث(۹)کہ فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :

الربا احد وسبعون بابا او قال ثلثۃ وسبعون حوبا ادنا ھا مثل اتیان الرجل امہ [2]۔رواہ عبدالرزاق عن رجل من الانصار

سود اکہتر دروازے ہے یا فرمایا تہتر گناہ ہے جن میں سب سے ہلکا ایسا ہے جیسے آدمی کا اپنی ماں سے جماع کرنا(اس کوامام عبدالرزاق نے انصار کے

 

 

 رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ۔

ایك مرد سے روایت کیا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ۔(ت)

حدیث(۱۰)کہ فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :

الربا اثنان وسبعون بابا ادنا ھا مثل اتیان الرجل امہ[3]۔رواہ الطبرانی فی الاوسط بسند صحیح عن البراء بن عازب رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

سود کے بہتر دروازے ہیں ان میں سے کم تر ایسا ہے جیسے اپنی ماں سے صحبت کرنا(اس کو طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ معجم اوسط میں حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا۔ت)

حدیث(۱۱)کہ فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :

ان ابواب الربا اثنان وسبعون حوبا ادناھا کالذی یاتی امہ فی الاسلام [4]۔رواہ الطبرانی فی الکبیر عن عبداللہبن سلام رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

بیشك سود کے دروازے بہتر گناہ ہیں سب میں کمتر ایسا ہے جیسے اسلام میں اپنی ماں سے زنا کرنا(اسی کو طبرانی نے معجم کبیر میں سیدنا عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا۔ت)

حدیث(۱۲)کہ فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :

الربا ثلث وسبعون بابا ایسرھا مثل ان ینکح الرجل امہ[5] رواہ الحاکم وقال صحیح علی شرطھا و البیہقی عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

سود کے تہتر دروازے ہیں سب میں ہلکا اپنی ماں سے زنا کے مثل ہے(اس کو حاکم نے روایت کیا اور فرمایا کہ یہ بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور امام بیہقی نے اس کو سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت کیا۔ت)

حدیث(۱۳)کہ فرماتے ہیں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ :

ان الربا نیف وسبعون بابا اھونہن بابا مثل من اتی امہ فی الاسلام

سود کے کچھ اوپر ستر دروازے ہیں ان میں سب سے ہلکا ایسا ہے کہ مسلمان ہوکر اپنی ماں سے زنا کرنا

 

ودرہم من ربا اشد من خمس و ثلثین زنیۃ [6]۔رواہ البیہقی عن ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما ۔

اور سود کا ایك درم پینتیس زنا سے سخت تر ہے۔(اس کو بیہقی نے سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت کیا۔ت)

حدیث(۱۴)سیدنا امیر المومنین عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :

الربا سبعون بابا اھونھا مثل نکاح الرجل امہ[7]۔رواہ ابن عساکر بسند صحیح۔

سود ستر دروازے ہیں ان میں آسان تر اپنی ماں سے زنا کے مثل ہیں۔(اس کو ابن عساکرنے صحیح سند کے ساتھ روایت فرمایا۔ت)

 



[1] الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ بحوالہ ابن مندہ ترجمہ ۱۷۲ اسود بن وہب دار صادر بیروت ۱/ ۴۶

[2] المصنف لعبد الرزاق باب ماجاء فی الربا حدیث ۱۵۳۴۵ المکتب الاسلامی بیروت ۸/ ۳۱۴

[3]        المعجم الاوسط للطبرانی حدیث۷۱۴۷ مکتبۃ المعارف ریاض ۸/ ۷۴

[4]        کنز العمال بحوالہ طب عن عبداﷲ بن سلام حدیث ۹۷۵۶ موسسۃ الرسالہ بیروت ۴/ ۱۰۵

[5]       المستدرك کتاب البیوع دارالفکر بیروت ۲/ ۳۷،شعب الایمان للبیہقی حدیث ۵۵۱۹ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۳۹۴

[6]        الدر المنثور بحوالہ البیہقی فی الشعب تحت آیۃ ۴۹/۱۲ منشورات قم ایران ۶/ ۹۶،الترغیب والترھیب بحوالہ البیہقی فی الشعب الترھیب من الربا حدیث ۱۶ مصطفی البابی مصر ۳ /۸

[7]        المنتقی لابن الجارود عن ابی ہریرۃ حدیث ۶۳۷ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ص۲۱۸



Total Pages: 247

Go To