Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

الجواب:

ہر چند صورت مستفسرہ میں الفاظ ایجاب وقبول نہ پائے گئے کہ خرید کروں گا صیغہ استقبال ہے اور یہاں درکار ماضی یاحال، لکین اگر متعارف ان بلاد وامصار یوں یوں ہے کہ بعد گفتگو ئے مساومت وقرار داد قیمت بیعانہ اورلینا مستلزم تمام بیع ٹھہرتا ہے اور بعد اس کے تنہا ایك عاقد عقد سے رجوع نہیں کرسکتا اگر چہ الفاظ ایجاب وقبول درمیان نہ آئے ہوں تو بیع تمام ہوگئی کہ مقصود ان عقود میں معنی ہیں نہ کہ لفظ،اور اصل مدار تراضی طرفین قولا ظاہر ہو خواہ فعلا،اس لیے تعاطی مثل ایجاب وقبول لزوم بیع کا سبب قرار پائی،گویا عاقدین زبان سے کچھ نہ کہیں کہ عادت محکم ہے اور تعارف معتبر،اور جوحکم عرف پر مبنی ہوتا ہے اس کے ساتھ دائر رہتا ہے،جب یہ فعل مثل الفاظ مظہر تراضی ہوا تو انھیں کی طرح موجب تمام بیع ہوگا۔

فی الہدایۃ والمعنی ھو المعتبر فی ھٰذہ العقود ولہذا ینعفد بالتعاطی

ہدایہ میں ہے کہ ان عقود میں معنی ہی کا اعتبار ہوتا ہے اسی لئے بڑھیا اور گھٹیا چیزوں میں بیع تعاطی منعقد

 


 

 



Total Pages: 715

Go To