We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

تنویرمیں ہے:

برئ المحیل من الدین بالقبول[1]۔

محتال علیہ کی طرف سے قبول کے بعد محیل قرض سے بری ہوجاتاہے۔(ت)

فتح القدیر ودرمختارمیں ہے:

ھل توجب البرأۃ من الدین المصحح نعم[2]۔

کیاحوالہ دَین صحیح سے براءت کاموجب ہے،جواب ہاں۔ (ت)

محیط سرخسی وفتاوٰی عامگیریہ میں ہے:

اما احکامھا فمنھا برأۃ المحیل عن الدین[3]۔

حوالہ کے احکام میں سے ایك یہ ہے کہ محیل قرض سے بری ہوجاتاہے۔(ت)

یہاں تك کہ اب اگردائن اصل مدیون کو دَین بخش دے یامعاف کرے توباطل ہے کہ جو دَین اس پررہا ہی نہیں اس کی بخشش یامعافی کیا معنی،اور اگر محتال علیہ کو معاف کردے معاف ہوجائے گا۔فتاوٰی ظہیریہ و فتاوٰی ہندیہ میں ہے:

فلوابرأ المحتال المحیل عن الدین او وھبہ لہ لا یصح علیہ الفتوی[4]۔

اگرمحیل کومحتال علیہ قرض سے بری کرے یاقرض اس کو ہبہ کرے توصحیح نہیں،اسی پرفتوٰی ہے(ت)

ردالمحتار میں ہے:

اجماع علی ان المحتال لوابرأالمحتال علیہ من الدین اووھبہ منہ صح ولو ابرأ المحال علیہ من الدین او وھبہ منہ صح ولو ابرأ المحیل او وھبہ لم یصح۔[5]

اس پر اجماع ہے کہ اگرمحتال،محتال علیہ کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض سے بری کردے یا اس کو قرض ہبہ کردے تو صحیح ہے اور اگرمحیل کو بری کیا یا اس کو قرض ہبہ کیاتوصحیح نہیں۔(ت)

 


 

 



[1] درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹

[2] درمختار بحوالہ فتح القدیر کتاب الحوالہ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹

[3] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ محیط السرخسی کتاب الحوالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۶۹

[4] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ الظہیریہ کتاب الحوالہ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۲ /۲۹۶

[5] ردالمحتار کتاب الحوالہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴/ ۲۸۸



Total Pages: 715

Go To