Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

سے ثابت کی جائیں اور بعد قائم ہوجانے امرحق کے اس کی تعمیل کی ہدایت فرمائی جائے۔بینواتوجروا۔

الجواب:

اللھم ھدایۃ الحق والصواب،بملاحظہ مولانا المکرم جناب مولوی سیدمحمد فخرالحسن صاحب اکرمکم اﷲ تعالٰی السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،

نوازش نامہ اس وقت تشریف لایا اہالی دارالافتاء بعزم آرہ شاہ آباد جلسہ مدرسہ فیض الغربا پابرکاب ہیں اجمالی جواب فوری گزارش ہے کہ تکلیف انتظار بھی نہ ہو اور ایك مسلمان کہ سود کی بلا سے بچتا ہے مبادا تاخیر میں وہ معاملہ ہاتھ سے نکل جائے اگرضرورت ہوگی ان شاء اﷲ تعالٰی اور تفصیل کردی جائے گی وباﷲ التوفیق۔

مولٰنا آپ نے بنظرعجلت سوال وہاں ارسال فرمایا اگریہ جواب لکھ کر بھیجتے تومامول تھا کہ ان صاحبوں کی نظرلغزش نہ کرتی بطور خود زلت نظربعید نہیں مگربعد علم بالحق مخالفت مظنون نہیں ہوتی الامن عَنِدَ وھواہ عَبِدَ(سوائے اس شخص کے جو عناد اختیار کرے اور اپنی نفسانی خواہش کی پرستش کرے۔ت)ان صاحبوں کابڑا منشاء غلط یہ ہے کہ بعد اس حوالہ کے بھی زید ہی کو مدیون سمجھے ہوئے ہیں اور وہ دوسرا ہندو جو اداکرے گا اسے زید کی طرف سے اداکرنا گمان کررہے ہیں کہ لکھتے ہیں بدری پرشاد منوسنگھ والے قرضہ ذمگی زید کو زید کی طرف سے ادا کرکے دستاویز واپس لے نیز لکھتے ہیں یہ(سامہ ۰۱۲/)بدری پرشاد زید کی طرف سے منوسنگھ کو ادا کرے گا نیز لکھتے ہیں(سالعہ ۱/)منجانب زیدمنوسنگھ کوپہنچیں گے ان کے سارے خیالات کامنبع بلکہ سراپا تحریر کامحصل یہی زعم ہے اور وہ اصلا صحیح نہیں حوالہ میں(جسے قرضہ کی اترائی کہتے ہیں)اصل مدیون(جسے محیل کہتے ہیں)دَین سے بری ہوجاتاہے دَین اس پرنہیں رہتا اس دوسرے پرہوجاتاہے جس نے اپنے اوپر کادین دائن کو(جسے محتال علیہ کہتے ہیں)محتال علیہ وہ دین محیل کی طرف سے ادا نہیں کرتا بلکہ خود اپنے اوپر کا دین دائن کو جسے محتا ل ومحتال لہ کہتے ہیں دیتاہے۔تنویرالابصار میں ہے:

الحوالۃ نقل الدین من ذمۃ المحیل الی ذمۃ المحتال علیہ[1]۔

حوالہ محیل کے ذمہ سے دین کو محتال علیہ کے ذمہ کی طرف منتقل کرنے کانام ہے۔(ت)

نہرالحقائق پھرعالمگیریہ میں ہے:ھوالصحیح[2] 


 

 



[1] درمختار شرح تنویرالابصار کتاب الحوالۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲/ ۶۹

[2] فتاوٰی ہندیہ بحوالہ النہرالفائق نورانی کتب خانہ پشاور ۳/ ۲۹۵



Total Pages: 715

Go To