Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

پریشانی کی کیفیت مسمیان محمود قوم سیدوبدری پرشاد کھتری مہاجن سے بیان کی،مسمی محمود نے یہ صلاح دی کہ بالفعل اس روپیہ سے ٹھیکہ داری یاتجارت کی جائے اور بعد انقضائے ایك سال وپانچ ماہ بقیہ مدت مندرجہ دستاویز سلسلہ ٹھیکہ داری وغیرہ منقطع کرکے اور منوسنگھ مہاجن کا قرضہ ادا کرکے دستاویز واپس کرلی جائے امید ہے کہ ٹھیکہ داری یاتجارت کے ذریعہ سے مقدارتاوان(سما ؎۰۱۲)سے زائد منفعت حاصل ہوجائے گی مسمی بدری پرشاد مہاجن یہ مشورہ دیتاہے کہ سلسلہ ٹھیکہ داری یاتجارت قائم کرنے میں احتمال نفع ونقصان دونوں قسم کا ہے نقصان کی صورت میں جائداد موجود کے جو ظاہری ذریعہ ہے تلف ہوجانے کا اندیشہ ہے پس اگر شریعت اجازت دے تومبلغ پانچ ہزار زراصل اور(معہ ؎۰۴/)زرسودیکماہہ جملہ(صمہ معہ ؎۰/)جواس وقت آپ کے واجب الادا ہیں مجھ کو دے کر قرضہ کی اتروائی مجھ پر کرادیجئے اب منوسنگھ میرے ذمہ عائد ہوجائے گا میں شخص مہاجنی پیشہ ہوں مبلغ(صمہ معہ ؎۰۴/)جو آپ سے ملیں گے اس کو سودی قرضہ میں لگاکر تھوڑے عرصہ میں کل روپیہ(صمہ سما لعہ ؎)پوراکرکے اور منوسنگھ کو دے کر دستاویز واپس کرلوں گا یہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے آپ کو قرضہ سے سبکدوشی بھی ہوجائے گی اور جائداد موجودہ کا بھی کچھ نقصان نہ ہوگا بلکہ اس حیلہ میں یہ نفع ہوگا کہ آپ جس قدر دینے(سما ؎۰۱۲/)زرسود کے مواخذہ میں مبتلا ہوتے اس سے محفوظ رہیں گے بظاہر مشورت مسمی بدری پرشاد مناسب اور موجب منفعت دینی و دنیوی معلوم ہوتی ہے لہذا استصواب ہے کہ مسمی زید کو بروئے ملت حنفیہ وشریعت غرامشورہ بدری پرشاد پرعمل کرناجائز ہے یا اس صورت میں علاوہ مواخذہ سوددینے کے مواخذہ سودخوری مبتلا ہوناہوگا،جواب تفصیلی بحوالہ کتب ملت حنفیہ بہت جلد ارقام فرمایاجائے کہ اس مسئلہ کے دریافت ہونے کی سخت ضرورت درپیش ہے نیز یہ بھی ہدایت فرمایاجائے کہ اگرزید کوصرف دوہزار روپیہ مل جائے اور موافق مشورہ بدری پرشاد کے بقدرمبلغ دوہزار روپیہ کے قرضہ کی اُترائی بدری پرشاد پر کردی جائے تو اس صورت میں وہی حکم ہوگا جو کل قرضہ کہ اُترائی میں ہوگا یا اس کے علاوہ کچھ دوسراحکم ہوگا؟

الجواب:

قرض تحویل کرادینے کی رائے بالکل خیرہے زید اس دوسرے ہندو کو پانچ ہزار اڑتیس خالص قرض کی نیت سے دے پانچ ہزار سے جتنا زیادہ دیتاہے اس میں پہلے ہندو کے سود کی نیت نہ کرے پھر پہلے ہندو سے کہہ کر اس کا قرضہ دوسرے پر اتروادے اور اس میں قانونی احتیاط کرلے کہ دھوکانہ پائے یوں بالکل سوددینے سے زید بچ جائے گا چالیس بچاس روپیہ جوزیادہ جائے گا وہ یوں ہوگا کہ قرض دیاتھا اور ماراگیا یاقرض دار پرچھوڑدیاسوددینے میں محسوب نہ ہوگا۔رہا یہ کہ وہ دوسراہندو اس روپے کو سود پر چلائے گا یہ اس کا فعل ہے بلکہ تنہا اس کا بھی فعل نہیں جب تك اسے کوئی قرض لینے والا نہ لے تو اس کا الزام زید پر نہیں


 

 



Total Pages: 715

Go To