Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

صورت مستفسرہ میں بیع تام و صحیح ہے اور بقیہ ثمن ذمہ مشتری واجب۔یہ قرار داد مہلت ادائے ثمن کسی طرح مفسد بیع نہیں، نہ بعد تمامی عقد،وان قلنا بالتحاقہ باصل العقد(اگرچہ ہم اس کے اصل عقد کے ساتھ لاحق ہونے کا قول کریں۔ ت)نہ نفس صلب عقد میں کہ یہ اجل معین ہے اور بیع اجل معین کے ساتھ صحیح ہے اس کے لئے خود وہی عبارت بحرالرائق منقولہ تجویز کافی ہےکہ صح بثمن حال وباجل معلوم [1](بیع درست ہے ثمن حالی کے ساتھ اور معلوم میعاد کے ساتھ۔ ت) اسے اجل مجہول سمجھنا اصلًا وجہ صحت نہیں رکھتا عرفًا لغۃً ہر طرح سال کے اندر اور ایك سال تك کا حاصل ایك ہے جس سے اجل کی تحدید ایك سال سے ہوتی ہے اور سال شے معین ہے نہ کہ مجہول،اسی بحرالرائق میں اسی بحث میں ہے:

وفی السراج الوھاج الاٰجال علی ضربین معلومۃ و مجہولۃ فالمعلومۃ السنون والشہور والایام [2] الخ۔

السراج الوہاج میں مذکور ہے کہ میعاد یں دو طرح کی ہیں، معلوم اور مجہول۔معلوم میعاد دیں سال،مہینے اور دن ہیں الخ (ت)

آغاز وعدہ سے اختتام سال تك مشتری کو اختیار ادا ہونا مضر نہیں بلکہ عین مقصود تاجیل ہے کہ اجل اسی کے رفاہ کے لئے ہے کما فی الھدایۃ وغیرہ(جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔ت)اور اگر یہ مقصود کہ اس کا اطلاق ان تمام اجزاء کو شامل تو بائع ہر جز میں طلب کرسکتا ہے اور یہ مفضی الی النزاع ہے تو یہ محض باطل ہے جب وہ مشتری کو سال کے اندر ادا کی اجازت کرچکا تو جب تك سال کے اندر ہے اسے اختیار مطالبہ نہیں کہ وہ اسی اجازت تاخیر کے اندر داخل ہے وقد لزم التاجیل من جھتہ فلا یقدر ان یطالبہ(تحقیق اس کی طرف سے میعاد لازم ہوچکی ہے اب وہ ثمن کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔ت)ہاں جب سال سے باہر جائے ا س وقت اسے اختیار مطالبہ ہوگا اور اب مشتری کو کوئی عذر نہیں ہوسکتا پھر نزاع کہاں،اور خود عبارت بحرالرائق منقولہ تجویز سے ظاہر کہ اجل وہی مفسد ہے جو مفضی نزاع ہو عبارت خیریہ کو یہاں سےکوئی تعلق نہیں کہ اس میں تین خیار تك بیع ہے اور خیار کوئی شے معین نہیں بخلاف سال۔واللہ تعالٰی اعلم۔

مسئلہ ۱۱۴: از اردہ نگلہ ڈاك خانہ اچھنیرہ ضلع آگرہ مرسلہ صاد ق علی خان ۲۸شوال ۱۳۳۶ھ

ایك شخص غلہ اپنا نرغ بازار سے کم اس شرط پر دیتا ہے کہ قیمت کچھ عرسہ بعد لوں گا مثلًابھاؤ 

 

بازاری ۲۰ثار ہے اور لوگوں کو ۱۶ ثار کے حساب سے دیتا ہے اس قرض دینے میں سود تو نہیں ہوتا؟ جائز ہے یاناجائز؟

الجواب:

یہ سود نہیں،نہ اس میں کوئی حرج جبکہ برضائے مشتری ہو،اور اجل یعنی میعاد ادا معین کردی جائے،

قال اللہ تعالٰی " اِلَّاۤ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِّنْكُمْ- "[3]۔

اللہ تعالٰی نے فرمایا:مگر یہ کہ ہو وہ تمہارے درمیان تجارت تمہاری باہمی رضامندی سے۔(ت)

غرض یہ بیع بلا کراہت ہے،ہاں خلاف اولویت ہے۔فتح القدیر میں ہے:

لاکراھۃ الاخلاف الاولی فان الاجل قابلہ قسط من الثمن [4]۔واللہ تعالٰی اعلم۔

اس میں کراہت نہیں تاہم یہ خلاف اولٰی ہے کیونکہ اجل کے مقابل ثمن کا ایك حصہ ہے واللہ تعالٰی اعلم(ت)

_____________________

 

بابُ القرض
(قرض کا بیان)

 

مسئلہ ۱۱۵:کیافر ماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین کہ ایك شخص نے مبلغ سو روپیہ اس شرط پر قرض لیا کہ پچیس روپے سالانہ منافع مقررہ بلا نقصان کے دیتارہوں گا اور جب جمع طلب کروگے تو تمہارا پورا روپیہ واپس کردوں گا،جس شخص نے اس شرط کو قبول کرکے روپیہ دے دیا اس پر خود سودخوری کا حکم ہے یانہیں ؟ اور اس کے پیچھے نمااز پڑھنا جائز ہوگی یا ناجائز؟ بینوا توجروا(بیان کرواجردئے جاؤگے۔ت)

الجواب:

قطعی سوداور یقینی حرام وگناہ کبیرہ خبیث ومردار ہے۔حدیث میں ہے:

قال رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کل قرض جر منفعۃً فہو ربٰو[5]۔

 



[1]          البحر الرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵ /۲۷۹

[2]          البحرالرائق کتاب البیع ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۵/ ۲۸۰

[3]           القرآن الکریم ۴ /۲۹

[4]           فتح القدیر کتاب الکفالۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۳۲۴

[5]        کنز العمال حدیث ۱۵۵۱۶ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶/ ۲۳۸



Total Pages: 247

Go To