Book Name:Fatawa Razawiyya jild 17

اما حیث کان الواقع انہا علی اتلاف الاعیان فہی باطلۃ [1]۔

مگر جب وہ اعیان کے اتلاف پرواقع ہوا ہے تو وہ باطل ہے۔(ت)

اسی کے ایك تیسرے واقعہ میں ہے:

قدیختلف الجواب باختلاف المرضوع المرفوع لاہل الفتوٰی فلا اعتراض علی المجیب فی الجواب [2]۔

کبھی فتوٰی پوچھنے والوں کو موضوع مرفوع میں اختلاف کی وجہ سے جواب مختلف ہوجاتاہے اس لئے اس جواب میں مجیب پر کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔(ت)

اسی میں ایك چوتھے واقعہ پر ہے۔

قد استفتی فی ہذہ الحادثۃ بماہو مختلف الموضوع فی السوال فاختلف الجواب بسبب ذٰلك فلا یتوھم معارضۃ الافتاء فیہ [3]۔

تحقیق اسی حادثہ میں سوال میں مذکور موضوع سے مختلف صورت میں فتوٰی پوچھا گیاتھا لہذا اسی سبب سے جواب مختلف ہوا چنانچہ اس میں افتاء کے معارضہ کاوہم نہ کیا جائے۔(ت)

ان سب ارشاد شریفہ کاحاصل یہ ہے کہ پہلے اور طرح سوال کئے گئے تھے پچھلے سوال ان کی خلاف تھے لہذا جواب مختلف ہوئے کہ مفتی اسی پر فتوٰی دے گا جو اس کے سامنے پیش کیاجائے گا اس سے کوئی فتووں میں تعارض کاوہم نہ کرے،ہاں اگر اسی وقت معلوم ہوتاکہ یہ سوال مدعی اس مقدمہ سوالات سابقہ سے متعلق ہے جس میں اس نے صورت واقعہ غلط لکھی ہے توہر گز جواب نہ دیا جاتا کہ جب مفتی کو سوال کا خلاف واقع ہونا معلوم ہوجائے تو حکم ہے کہ جواب نہ دے۔عقود الدریہ میں ہے:

اذاعلم المفتی حقیقۃ الامر ینبغی لہ ان لایکتب للسائل لئلا یکون معینا لہ علی الباطل [4]۔

جب مفتی کو معاملہ کی حقیت معلوم ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ (جھوٹے)سائل کے لئے فتوٰی نہ لکھے تاکہ وہ باطل پر اس کا مدد گار نہ ہو۔(ت)

ملاحظہ کفالت نامہ تجویز سے ظاہر ہے کہ سوال مدعی محض غلط وفریب ہے اس میں ضمانت اپنی جائداد


 

 



[1] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۱۳۶

[2] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۵۹

[3] فتاوٰی خیریہ کتاب الاجارۃ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۱۸۳

[4] العقود الدریۃ فوائد فی آداب المفتی قبل کتاب الطہارۃ ارگ بازار قندہار افغانستان ۱/ ۳



Total Pages: 715

Go To